| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی: ایک سو تیرہ پاکستانی گرفتار
ترکی کی خبر رساں ایجنسی ’اناطولیا‘ کے مطابق ترک پولیس نے استنبول میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک سو تیرہ غیر قانونی تارکین وطن کو حراست میں لے لیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق یہ افراد استنبول کی ایک عمارت کے طے خانے میں چھپے ہوئے تھے۔ ان افراد میں سے ایک شحص سڑک پر پولیس کی چیکنگ سے بچنے کے لئے پولیس سے بھاگا اور اس عمارت میں داخل ہو گیا۔ پولیس نے اس کا پیچھا کیا اور طے خانہ کا دروازہ توڑ کر کمرے میں داخل ہوگئے۔ ان افراد نے بتایا ہے کہ وہ پچھلے پندرہ دن سے اس کمرے میں رہ رہے تھے۔ کمرے کے ساتھ صرف ایک بیت الخلاء ہے۔ یہ تمام افراد یورپ میں داخل ہونے کی غرض سے ایجنٹوں کے ذریعے ترکی آئے تھے۔ انسانی سمگلنگ کرنے والے مافتیا گروپ کا یہ خاص طریقہ کار ہے کہ وہ پہلے غیر قانونی تارکین وطن کو استنبول پہنچاتی ہے اور وہاں سے ان کو دریائے مریچ کے قریب چھوٹے چھوٹے گھروں میں رکھنے کے بعد رات کی تاریکی میں دریا پار کرا کے یونان لے جاتی ہے۔ ترکی اور یونان کی زمینی سرحدوں پر خار دار تار اور بارودی سرنگوں کے باعث اس راستے سے یونان میں داخل ہونا بہت مشکل کام ہے۔ پچھلے دنوں کئی پاکستانی تارکین وطن سرحد پار کرنے کی ایسی کوشش میں ہلاک ہو گئے تھے۔ ترکی میں تعینات پاکستان کے سفیر شیر افگن خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ترک حکام غیر قانونی تارکین وطن کی گرفتاریوں کے بعد ان سے بہت تعاون کرتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ان افراد کو جلد از جلد ان کے وطن واپس بھیج دیں۔ سفیر نے کہا کہ اصل مسئلہ ن ایجنٹوں کا ہے جو ان لوگوں سے بھاری رقم وصول کر کے ان کو غیر قانونی طور پر دیگر ملکوں کے ذریعے یورپ لے جانے کا وعدہ کرتے ہیں۔ سفیر نے بتایا کہ جب بھی ایسی کوئی گرفتاری ہوتی ہے تو وہ ان افراد سے ایجنٹوں کے بارے میں معلوم ہو نے والی تمتام تفصیلات پاکستانی حکام کو بھیج دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تفصیلات وزارت داخلہ، ایف آئی اے اور امیگریشن کے حکام کو پہنچائی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود انسانی سمگلنگ کے اس کاروبار میں کوئی کمی ہوتے ہویے نظر نہیں آتی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||