BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 26 March, 2006, 03:11 GMT 08:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاس انجلیس میں ہزاروں کا مظاہرہ
پیر کو سخت قوانین کے حامی واشنگٹن اور بوسٹن میں مظاہرے کریں گے
لاس انجیلس میں ہزاروں افراد نے امریکہ کی اس پالیسی کے خلاف مظاہرہ کیا ہے جس کے تحت ایسے تمام لوگوں کے جرم کو سنگین تصور کیا جائے گا جن کے پاس قانونی دستاویزات نہیں ہوں گے۔

مظاہرے کے ایک منتظم جیویئر نے بتایا کہ مظاہرین انسان دوست امیگریشن پالیسی چاہتے ہیں نہ کہ نسلی منافرت پر مبنی کوئی قانون۔

پیر کو سخت امیگریشن کے حامی واشنگٹن اور بوسٹن کی سڑکوں پر مظاہرے کریں گے۔

اسی ہفتے کے اوائل میں ملواکی میں ہزاروں افراد نے امیگریشن کے اس منصوبے کے خلاف مظاہرہ کیا تھا جس کے تحت ہر اس کارکن کو مجرم قرار دیا جائے گا جس کے پاس دستاویزات نہیں پائے گئے۔

مسٹر جوویئر کا کہنا تھا کہ مظاہرین چاہتے ہیں کہ تارکینِ وطن افراد کے خلاف کی جانے والی اصلاحات کو روکا جائے اور ان کا یہ مطالبہ ہے کہ امیگریشن کی اصلاحات اایسی ہو جو انسان دوست ہوں اور منصفانہ ہوں۔

مظاہرہ کرنے والوں میں شریک ایک شخص لیونل وینگاس نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ امیگریشن کا بل غلط ہے کیونکہ ’یہ دنیا آزاد ہے اور یہ ملک ہر اس شخص کا ہے جو بہتر زندگی گزارنا چاہتا ہے۔‘

مظاہرین اس بل کی مخالفت کر رہے ہیں جسے گزشتہ سال نمائندگان نے منظور کیا تھا اور جس کے تحت امریکہ میں غیر قانونی طور پر رہنا سنگین جرم تصور کیا جائے گا۔

یہ مظاہرہ ایسے وقت ہوا ہے جب امریکی صدر جارج بش کانگریس پر زور دے رہے ہیں کہ وہ امیگریشن کے مسئلے پر تندی و تیزی میں کمی لائے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ اس سال نومبر میں درمیانی مدت کے انتخابات میں یہ مسئلہ اہم انتخابی اشو کے طور پر سامنے آئے گا۔

امریکی سینیٹر اس موضوع پر تفصیلی بحث کرنے والے ہیں اور حکمراں جماعت کے کئی رکن بھی صدر بش کی اس تجویز کی مخالف کر رہے ہیں کہ میزبان کارکن کے نام سے ایک منصوبہ تیار کیا جائے۔

صدر بش کی تجویز کے مطابق غیر ملکیوں کو یہ اجازت ہوگی کہ وہ ایک خاص اور مقررہ مدت کے لیئے اور خاص ملازمتوں کے لیئے امریکہ میں رہ سکیں۔

اندازوں کے مطابق اس وقت امریکہ میں گیارہ اعشاریہ پانچ ملین لوگ غیر قانونی طور پر رہ رہے ہیں۔ان میں سے بہت سے زرعی سیکٹر، تعمیر شعبوں اور خدمات کی صنعتوں میں کام کرتے ہیں۔

صدر بش نے کہا ہے کہ پیغام یہ ہونا چاہیئے کہ اگر لوگ وہ کام کر رہے ہیں جو امریکی خود نہیں کرنا چاہتے تو ایک خاص مدت کے لیئے ایسے لوگوں کو امریکہ آنے دیا جائے۔

تاہم ان کی تجاویز کی مخالفت ان کی اپنی ہی جماعت کے کچھ ارکان کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
نئی امریکی امیگریشن پالیسی
07 January, 2004 | صفحۂ اول
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی ۔۔۔
17 September, 2004 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد