| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
نئی امریکی امیگریشن پالیسی
صدر بش نے کہا ہے کہ لوگوں کی امریکہ آمد کو ممکن بنانے کے لیے نئے قوانین کی ضرورت ہے تا کہ وہ آ کر کم معاوضوں کی ان آسامیوں کو پُر کر سکیں جن پر امریکی شہری کام نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عارضی کارکن کے درجے کی گنجائش تجویز کر رہے ہیں جس کے تحت وہ لوگ کام کر سکیں گے جو اس وقت بھی امریکہ میں غیر قانونی طور پر موجود ہیں اور وہ بھی جو ابھی امریکہ آنا چاہتے ہیں۔ صدر بش نے کانگریس سے درخواست کی کہ وہ اس قانون کی منظوری دے دے۔ امریکی صدر نے کہا کہ عارضی کارکن کی یہ اسامی تین سال کے لیے ہو گی اور مخصوص حالات میں اس کی تجدید کر کے مدت کو بڑھایا بھی جا سکے گا۔ تاہم اس کے تحت مستقل قیام کی اجازت نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی امیگریشن پالیسی میں بڑے پیمانے پر اصلاح کی ضرورت ہے۔ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے حملوں کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ صدر بش نے اس معاملے پر بات کی ہے اور اس کا اپنی قومی سلامتی کے تناظر میں اس کا جائزہ لیا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق عارضی کارکن کی اس اسامی کی قانونی گنجائش کے بعد تقریباً ان اسّی لاکھ افراد کو ایک قانونی درجہ حاصل ہو جائے گا جو اس وقت غیر قانونی طور پر کام کر رہے ہیں۔ صدر بش نے کہا ہے کہ نئے قانون کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو یہ جاننے کی زیادہ بہتر سہولتیں حاصل ہو جائیں گی کہ کون ملک میں ہے اور کیا کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ وہ دہشت گردی کے خطرے سے بہتر طور پر نمٹ سکیں گی۔ صدر بش نئی امیگریشن پالیسی سے لبرل کو بھی مطمئن کرنا چاہتے ہیں اور کنزرویٹوز کو بھی۔ لبرلز بے بس انڈر کلاس کے وجود میں آنے پر پریشان ہیں اور کنزرویٹو امیگریشن ختم نہ ہونے پر۔
کہا جاتا ہے کہ صدر بش کی تجویز کا مقصد بنیادی طور پر لاطینی امریکی تارکین وطن کو ووٹوں کو آئندہ انتخابات میں یقینی بنانا ہے کیونکہ اس پالیسی کے نتیجے میں کم سے کم ساٹھ فی صد لاطینی امریکی مکیسیکن باشندوں کو قانونی تحفظ حاصل ہو گا جو اس وقت غیر قانونی طور پر کام کر رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||