BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 January, 2004, 21:14 GMT 02:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نئی امریکی امیگریشن پالیسی
بش
صدر بش نئی امیگریشن پالیسی سے لبرلز کو بھی مطمعن کرنا چاہتے ہیں اور کنزرویٹوز کو بھی

صدر بش نے کہا ہے کہ لوگوں کی امریکہ آمد کو ممکن بنانے کے لیے نئے قوانین کی ضرورت ہے تا کہ وہ آ کر کم معاوضوں کی ان آسامیوں کو پُر کر سکیں جن پر امریکی شہری کام نہیں کرنا چاہتے۔

انہوں نے کہا کہ وہ عارضی کارکن کے درجے کی گنجائش تجویز کر رہے ہیں جس کے تحت وہ لوگ کام کر سکیں گے جو اس وقت بھی امریکہ میں غیر قانونی طور پر موجود ہیں اور وہ بھی جو ابھی امریکہ آنا چاہتے ہیں۔

صدر بش نے کانگریس سے درخواست کی کہ وہ اس قانون کی منظوری دے دے۔

امریکی صدر نے کہا کہ عارضی کارکن کی یہ اسامی تین سال کے لیے ہو گی اور مخصوص حالات میں اس کی تجدید کر کے مدت کو بڑھایا بھی جا سکے گا۔ تاہم اس کے تحت مستقل قیام کی اجازت نہیں ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کی امیگریشن پالیسی میں بڑے پیمانے پر اصلاح کی ضرورت ہے۔

گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے حملوں کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ صدر بش نے اس معاملے پر بات کی ہے اور اس کا اپنی قومی سلامتی کے تناظر میں اس کا جائزہ لیا ہے۔

تارکینِ وطن
رجسٹریشن قانون کے بعد دفاتر کے سامنے قطاریں لگ گئیں تاہم ان قطاروں میں وہ لاطینو شامل نہیں تھے جو ایمیگریشن پالیسی میں تبدیلی کا ہدف ہیں

ایک اندازے کے مطابق عارضی کارکن کی اس اسامی کی قانونی گنجائش کے بعد تقریباً ان اسّی لاکھ افراد کو ایک قانونی درجہ حاصل ہو جائے گا جو اس وقت غیر قانونی طور پر کام کر رہے ہیں۔

صدر بش نے کہا ہے کہ نئے قانون کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو یہ جاننے کی زیادہ بہتر سہولتیں حاصل ہو جائیں گی کہ کون ملک میں ہے اور کیا کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ وہ دہشت گردی کے خطرے سے بہتر طور پر نمٹ سکیں گی۔

صدر بش نئی امیگریشن پالیسی سے لبرل کو بھی مطمئن کرنا چاہتے ہیں اور کنزرویٹوز کو بھی۔

لبرلز بے بس انڈر کلاس کے وجود میں آنے پر پریشان ہیں اور کنزرویٹو امیگریشن ختم نہ ہونے پر۔

کنزورویٹو
کنزرویٹو امریکی تارکین وطن کی آمد بند کرنے کے حق میں ہیں

کہا جاتا ہے کہ صدر بش کی تجویز کا مقصد بنیادی طور پر لاطینی امریکی تارکین وطن کو ووٹوں کو آئندہ انتخابات میں یقینی بنانا ہے کیونکہ اس پالیسی کے نتیجے میں کم سے کم ساٹھ فی صد لاطینی امریکی مکیسیکن باشندوں کو قانونی تحفظ حاصل ہو گا جو اس وقت غیر قانونی طور پر کام کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد