| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ: امیگریشن میں نرمی
امریکہ اپنے اس متنازعہ پروگرام کو ختم کر رہا ہے جس کے تحت ملک میں آنے والے لاکھوں غیرملکیوں کو امیگریشن سروس میں اندراج کرانا پڑتا تھا۔ امریکی کے داخلی سلامتی کے ادارے کا کہنا ہے کہ اب پاکستان سمیت پچیس ملکوں کے شہریوں کو امریکہ آمد کے تیس دن اور ایک سال بعد ازسرنو اندراج نہیں کرانا پڑے گا۔ داخلی سلامتی کے محکمے کے انڈرسیکریٹری اساہچنسن نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ پہلے سے رائج پالیسی کا منگل کے روز خاتمہ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکیوں کے ازسرنو اندراج پر محکمے کو بھاری وسائل خرچ ہو رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب ان وسائل کو انفرادی طور پر لوگوں کی چھان بین کے لئے بروئے کار لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان، الجیریا، بحرین، بنگلہ دیش، مصر، ارٹریا، انڈونیشیا، ایران، عراق، اردن، کویت، لیبیا، لبنان، مراکش، شمالی کوریا، اومان، پاکستان، قطر، صومالیہ، سعودی عرب، سوڈان، شام، تیونس، متحدہ عرب امارات اور یمن کے سولہ سال سے زیادہ عمر کے مرد شہریوں کی امریکہ آمد کے موقع پر دیگر ملکوں کے شہریوں کی طرح چھان بین کی جائے گی۔ نئی پالیسی کے تحت پانچ جنوری سے تمام ملکوں کے شہریوں کو امریکہ آمد کے موقع پر فنگرپرنٹس اتروانے کے ساتھ ساتھ تصویر بنوانا ہو گی۔ اس سے ساتھ ساتھ غیر ملکی طلباء کی سرگرمیوں کی بھی نگرانی کی جائے گی۔ پرانی پالیسی کو سن دوہزار دو میں نیویارک اور واشنگٹن میں گیارہ ستمبر کو ہونے والے دہشت گرد حملوں کے متعارف کرایا گیا تھا۔ اس امریکی پالیسی کے ناقدین کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے۔ اس وقت امریکی محکمہ انصاف نے اس تنقید کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ ان ملکوں میں القاعدہ تنظیم نسبتاً زیادہ فعال ہے یا امریکہ کو وہاں سلامتی سے متعلق دیگر مسائل کا سامنے ہے۔ اس پالیسی کے تحت اب تک مشرق وسطیٰ کے بیس اور پاکستان اور افغانستان سمیت ایشیاء کے پانچ ملکوں کے اسی ہزار سے زائد شہریوں کا اندراج کیا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||