| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بش کی مقبولیت میں کمی
ایسے میں جب ایک جانب عراق میں امریکی فوجیوں پر ہونے والے حملوں میں زبردست تیزی آئی ہے اور دوسری طرف صدر بش کو اندرون و بیرون ملک شدید تنقید کا سامنا ہے، ان کی مقبولیت پہلی بار پچاس فیصد سے کم ہوگئی ہے۔ رہی سہی کسر پیر کو فلوجہ میں ہونے والے شینوک ہیلی کاپٹر پر اس حملے نے پوری کردی جس میں سولہ امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد سے صدر بش پر ہونے والی کڑی نکتہ چینی شدید ہوگئی ہے۔ جنگ کے بعد سب سے زیادہ جانی نقصان اسی واقعے میں ہوا ہے اور اب صدر جارج بش کے سامنے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ وہ عراق میں ایک مستحکم جمہوریت کے قیام کی اپنی کوششیں ترک کئے بغیر کس طرح رائے عامہ کو اپنے خلاف ہونے سے روکیں۔ امریکی سینیٹ میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹس نے اس حملے کے تناظر میں اگرچہ عراق میں برطانیہ کے علاوہ بھی مزید ممالک سے فوجی دستے تعینات کرانے پر زور دیا ہے تاہم یہ بالکل واضح ہے کہ تنقید کا رخ صدر بش ہی کی جانب ہے۔ سینیٹر جوائے بڈن کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ اس کا مطلب یہ ہو کہ ہمیں اب تک گریزاں رہنے والے حلیفوں کو عراق کی تعمیر نو میں مزید شریک کرنا پڑے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اس بات کے لئے تیار رہنا چاہیے کہ ہم اپنے یورپی حلیفوں کے پاس ایک بار واپس جائیں اور ان سے کہیں کہ ہمیں مزید مدد کی ضرورت ہے جس کے لئے ہم آپ کو مزید شریک کرنے کے لئے بھی تیار ہیں۔‘ یہ سب کچھ ایسے میں ہورہا ہے جب امریکہ کے صف اول کے اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ اور ایک بڑے ٹیلی ویژن چینل ’اے بی سی نیوز‘ کے تحت کرائی جانے والی ایک رائے شماری سے ثابت ہوا ہے کہ صدر بش کی مقبولیت پہلی بار پچاس فیصد سے کم ہوگئی ہے۔ اس طرح کی قیاس آرائیاں بھی کی جارہی ہیں کہ بش انتظامیہ کوشاں ہے کہ عراق میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی لاشیں جب امریکہ پہنچیں تو ذرائع ابلاغ میں ان واقعات کو زیادہ جگہ نہ دی جائے۔ واشنگٹن میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جسٹن ویب کا بھی کہنا ہے کہ بش انتظامیہ عراقی مزاحمت میں اضافے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی منفی رائے عامہ کے بارے میں روز بروز حساس ہوتی جارہی ہے۔ اتوار کو عراق میں امریکی منتظم اعلیٰ پال بریمر نے کہا تھا ’صورتحال خراب تر‘ ہورہی ہے۔ امریکہ کے ایک اور صف اول کے اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کے مطابق ڈیموکریٹس عراق میں فوج بھیجنے کے بارے میں برطانیہ کے علاوہ دیگر امریکی حلیفوں کو راضی کرنے میں ناکام ہوجانے کے سوال پر اس زاویہ سے تنقید کرتے رہے کہ امریکی انتظامیہ دراصل جنگ سے قبل اس سلسلے میں کوئی حقیقی اتحاد تشکیل ہی نہیں دے سکی تھی۔ خود صدر بش امریکی فوجیوں کو جلد سے جلد واپس وطن بلانے کے لئے اپنے اوپر پڑنے والے دباؤ کے سلسلے میں خاصے حساس ہوچکے ہیں۔ اس سلسلے میں جب ایک اخباری کانفرنس میں ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ وعدہ کرسکتے ہیں کہ آئندہ برس تک عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی آسکتی ہے تو انہوں نے اس سوال کو ’چالاکی سے کیا گیا سوال‘ قرار دیتے ہوئے اس کا جواب دینے سے انکار کردیا تھا۔ ہیلی کاپٹر پر حملہ کے بعد ایک اور ڈیموکریٹ جنرل ویزلی کلارک نے کہا ’عراق میں بڑھتے ہوئے تشدد کی صورتحال کے بارے میں ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ ہمیں ایک باقاعدہ منصوبے کی ضرورت ہے۔‘ ایک ڈیموکریٹ امیدوار ڈینس جے کا کہنا ہے کہ ’اب امریکہ کو ہنگامی بنیادوں پر ایک نئی قرارداد اقوام متحدہ میں پیش کرنی چاہیے جو عراق سے نکل جانے کی حکمت عملی پر مبنی ہو۔‘ عراق میں ہر حملے کے بعد صدر بش پر یہ دباؤ آپڑتا کہ وہ یہ ثابت کریں کے ان کے پاس نہ صرف عراق کے بارے میں ایک جامع اور ٹھوس پروگرام ہے بلکہ اس پر عملدرآمد کا پورا پورا اختیار اور عزم بھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||