| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پالیسی تبدیل نہیں ہوئی: بش
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے ایران کے زلزلہ زدگان کے لیے انسانی بنیادوں پر امداد مہیا کرنے کا یہ مطلب نہیں کے ایران اور امریکہ کے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔ امریکہ نے بدھ کو ایران پر بیس سال سے زائد عرصے سے عائد پابندیوں کو نرم کرنے کا اعلان کیا تھا تاکہ ایران کے زلزلہ زدگان کی امداد کے لیے امدادی رقم کی ترسیل کو آسان بنایا جا سکے۔ امریکی صدر بش نے کہا کہ ایران اگر امریکہ سے تعلقات بہتر کرنا چاہتا ہے تو اسے القاعدہ کے مشتبہ افراد کو امریکہ کے حوالے کرنا ہوگا اور اس کے ساتھ ہی اسے جوہری اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پروگرام کو ترک کرنا ہوگا۔ امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف عائد پابندیوں میں عارضی طور پر نرمی کرنے سے امریکی عوام اور امدادی کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے بام کے زلزلہ زدگان کی امداد کے لیے عطیات ایران بھیج سکیں گے۔ ایران کے وزیر خارجہ کمال خرازئی نے امریکی امداد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف عائد پابندیوں کو مستقل طور پر اٹھالیا جائے تو اس سے دونوں ملکوں میں تعلقات بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ اس سے قبل ایران کے سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی نے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر بنانے کے لیا بش انتظامیہ کی طرف سے کافی عرصے سے اشارے مل رہے ہیں۔ تاہم صدر بش جنہوں جمعرات کواپنے والد کے ساتھ تیتروں کے شکار کھیلا اخبارنویسوں کو بتایا کہ حالیہ امریکی اقدام کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار جم مؤر نے کہا کہ دونوں ملکوں میں ایسے عناصر پائے جاتے ہیں جو مذاکرات شروع کرنے کے مخالف ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||