| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران: بین الاقوامی امداد کی اپیل
ایران کے جنوب مشرقی صوبے کرمان میں جمعہ کو شدید زلزلے میں ہزاروں افراد کے ہلاک و زخمی ہونے اور وسیع پیمانے پر تباہی کی اطلاعات ملی ہیں۔ اب خیال کیا جا رہا ہے کہ زلزلے میں دس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اس سے قبل ایرانی حکام نے اس واقعے میں کم از کم پچیس ہزار افراد کے ہلاک ہو نے کی بات کی تھی۔ ایران کے صدر محمد خاتمی نے بین الاقوامی برادری سے امداد کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایران اس حادثے سے اکیلا نہیں نمٹ سکتا اور وہ اسرائیل کہ علاوہ کسی بھی ملک سے امداد قبول کریں گے۔ دریں اثناء مختلف ممالک سے امدادی سامان اور کارکنوں کی ٹیمیں ایران پہنچنا شروع ہوگئی ہے۔ امریکہ کےصدر جارج بُش نے بھی مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ عرب ممالک، یورپ، روس، چین اور جاپان سے امدادی ٹیمیں ایران پہنچ رہی ہیں۔ یورپی یونین نے دس لاکھ ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ نقصان کا اندازہ لگانےاور بین الاقوامی امداد کے حصول کے لئے ٹیمیں ایران روانہ کر رہی ہے۔ ایران میں لوگ بہت بڑی تعداد میں حکومت کی اپیل پر زخمیوں کے لئے خون دے رہے ہیں اور امدادی اشیا جمع کروا رہے ہیں۔ خبر رساں اداروں اور ایرانی ٹی وی کے مطابق اب تک سینکڑوں لاشوں کو دفن بھی کر دیا گیا ہے۔ ایرانی ٹی وی پر قدیم شہر بام میں زبردست تباہی کے مناظر دکھائےگئے۔ امدادی کارکن علاقے میں پہنچ گئے ہیں لیکن شہر کے ساتھ مواصلاتی رابطے منقطع ہو چکے ہیں، جس سے امدادی کام ابھی پوری طرح شروع نہیں ہو سکا ہے۔
زلزلے سے شہر کا ایک بڑا حصہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔ ریکٹر اسکیل پر اس زلزلے کی شدت چھ عشاریہ تین تھی اور اس کا مرکز صوبہ کرمان کا علاقہ بام تھا۔ خبر ہے کہ بام کے قریبی قصبے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ صوبے کرمان میں ٹیلی مواصلات کا نظام درم برہم ہوگیا اور علاقے کا ملک کے دوسرے حصوں سےٹیلی فون کے ذریعے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ مقامی وقت کے مطابق زلزلہ صبح پانچ بج کر اٹھائیس منٹ پر آیا۔ کرمان کے گورنر محمد علی کریمی نے کہا کہ بام شہر کا تاریخی مرکز بالکل تباہ ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ ابھی تک ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ بام کا علاقہ کرمان شہر سے ایک ہزار کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ایران اکثر زلزلوں کی زد میں رہتا ہے۔ انیس سو اکانوے سے ایران میں آنے والے زلزلوں میں سترہ ہزار چھ سو لوگ ہلاک اور تریپن ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||