| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
غیر قانونی تارکین وطن کے لئے امید کی کرن
امریکہ میں بسنے والے غیر قانونی تارکین وطن سالہا سال سے مشکلات سے پُر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ وہ روزی کمانے کے لئے کئی کئی گھنٹے مزدوری کرتے ہیں اور پھر بھی کم اجرت وصول کرتے ہیں۔ انہیں ملازمت دینے والے اکثر ان کا استحصال کرتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر نہ تو اپنے بچوں کو سکول بھیجتے ہیں اور نہ ہی کسی مجرمانہ کارروائی کا شکار ہونے کی رپورٹ درج کرا سکتے ہیں۔ اگر وہ بیمار ہوجائیں تو اپنا علاج بھی نہیں کرواسکتے۔ اب امریکہ میں اِن افراد کے لئے نئے قانون کی تجاویز بہتر زندگی گزارنے کی امید ثابت ہوئی ہیں۔ صدر بش کی نئی تجویز کے مطابق امریکہ میں موجود تمام غیر قانونی تارکین وطن کو عارضی ورک پرمٹ یا کام کرنے کا اجازت نامہ دیا جائے گا۔ اس پرمٹ کی میعاد تین سال ہوگی تاہم بعد میں اس کی تجدید ہوسکے گی۔ ایک اندازے کے مطابق امریکہ میں ایک کروڑ بیس لاکھ غیر قانونی تارکین وطن بستے ہیں جن میں سے بیس لاکھ کا تعلق پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سے ہے۔ یہ افراد زیادہ تر کم آمدنی والی ایسی ملازمتیں کرتے ہیں جنہیں عمو ماً امریکی کرنا پسند نہیں کرتے۔ وِجے سیٹھ گریجویٹ ہیں اور بھارت سے دس سال قبل غیر قانونی طور پر امریکہ آئے تھے۔ اس عرصے کے دوران انہوں نے بہت کم آمدنی والی ملازمتیں کی ہیں۔ اب وہ ایک ریستوران میں کام کرتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ مجوزہ قانون ان کی زندگی میں بہتری لاسکے گا۔ ان کے ایک ساتھی جاوید بنگلہ دیش سے ہیں۔ وہ بھی یہی خیالات رکھتے ہیں۔ یہ مجوزہ قانون اِن افراد کے لئے تو امید کی کرن ہے تاہم کچھ سخت گیر امریکی غیر قانونی طور پر بسنے والے غیر ملکیوں کے خلاف سخت اقدامات کے خواہاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ انہیں ملک سے نکال باہر کیا جائے۔ کچھ کا یہ خیال بھی ہے کہ اگر چھوٹی موٹی ملازمتیں کرنے والے ان افراد کو ملک سے نکال دیاگیا تو اس سے ملک کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||