’آزاد خیالی ناکام‘ ایرانی صدر کا خط | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایرانی صدر نے امریکی صدر جارج بش کے نام اپنے خط میں کہا ہے کہ آزاد خیالی اور جمہوریت ناکام ہو گئی ہیں۔ انہوں نے عراق پر حملے اور اسرائیل کی حمایت جیسے کئی معاملات میں امریکہ پالیسی پر تنقید کی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے نمائندے نِک وادھمز کے مطابق یہ خط دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان ایک عشرے کے عرصہ میں پہلا باقاعدہ رابطہ ہے۔ مغربی ممالک میں ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کے ضمن میں اس خط میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کسی سائنسی ترقی سے یہودی ریاست کو کیا خطرہ لاحق ہے؟ اس کے علاوہ خط میں صدر بش پر گیارہ ستمبر کے واقعے کا غلط ردعمل دینے اور ذرائع ابلاغ پر عراقی جنگ کے بارے میں جھوٹ پھیلانے کا الزام لگایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ دنیا کے لوگ خدا پر یقین کے قریب ہو رہے ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ’آزاد خیالی اور مغربی جمہوریت انسانیت کی معراج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ آج یہ دونوں تصورات ناکام ہو چکے ہیں۔ جو لوگ بصیرت رکھتے ہیں وہ ابھی سے اس جمہوری نظام کے نظریے کی ناکامی دیکھ رہے ہیں‘۔ اگرچہ اس خط میں جوہری مسئلے پر کوئی خاص بات نہیں کہی گئی تاہم حکام کا کہنا ہے یہ خط ایک ایسے وقت پر لکھا گیا ہے جب مغربی طاقتیں ایران کے جوہری معاملے پر سکیورٹی کونسل کے ذریعے دباؤ بڑھانا چاہ رہی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے اس خط کو رد کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلے کا حل پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ’یہ خط ایسا نہیں ہے جسے کوئی ایران کے جوہری مسئلے کے حل کی جانب کسی قسم کی پیش قدمی سمجھ سکے۔ یہ اس مسئلے کے بارے میں بات نہیں کر رہا جس کے لیئے ہم ٹھوس اقدامات کر رہے ہیں‘۔ خط میں احمدی نژاد نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں لوگوں کا بین الاقوامی اداروں پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔ اس کے علاوہ خط میں یہ بھی سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا امریکی انتظامیہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بارے میں کوئی شہادت اکٹھی کر سکی ہے یا نہیں۔ خط میں احمدی نژاد نے بش کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے گریبان میں جھانکیں کیونکہ دنیا میں امریکہ کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے اور تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ ’ظالم اور جابر حکومتیں قائم نہیں رہ سکتیں‘۔ خط میں امریکی صدر سے سوال کیا گیا ہے کہ ’کب تک معصوم لوگوں، عورتوں اور بچوں کا خون گلیوں میں بہایا جاتا رہے گا اور لوگوں کی چھتیں ان کے سروں پر تباہ کی جاتی رہیں گی؟ کیا آپ دنیا کے موجودہ حالات سے خوش ہیں؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ موجودہ پالیسیاں جاری رہ سکتی ہیں؟‘ |
اسی بارے میں ایران جوہری پروگرام، عالمی طاقتیں متفق نہیں09 May, 2006 | آس پاس جوہری پروگرام کے بدلے مراعات09 May, 2006 | آس پاس ایران کا خط بے مقصد ہے:امریکہ08 May, 2006 | آس پاس بش کے نام احمدی نژاد کا خط08 May, 2006 | آس پاس ایران قرارداد پر عدم اتفاق 07 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||