ایران قرارداد پر عدم اتفاق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں مجوزہ قرار داد پر غیرمتفق ہے اور اتفاق رائے پیدا کرنے کی ایک اور کوشش سوموار کے روز کی جائے گی۔ سنیچر کے روز سلامتی کونسل کا غیر رسمی اجلاس مجوزہ قرار داد کے مسودہ پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا ۔ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکان سوموار کے روز نیویارک میں ملاقات کریں گے۔ سفارت کارروں کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں قرار داد پر اختلافات ابھی قائم ہیں۔ روس اور چین نے مجوزہ قرار داد پر اعتراضات اٹھائے ہیں اور دونوں ممالک کسی ایسی قرار داد کے حق میں نہیں ہیں جس میں ایران کے خلاف تادیبی کارروائی کی گنجائش باقی ہو۔ قرار داد کا مجوزہ مسودہ برطانیہ اور فرانس نے پیش کیا ہے جس کو امریکہ کی حمایت حاصل ہے ۔ روس اور چین اس مجوزہ مسودے سے متفق نہیں ہیں۔ روس کا کہنا ہے کہ قرارداد کے مسودے پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس میں ایران اور اقوام متحدہ کے درمیان اعتماد کی بحالی کو اہمیت دی جاسکے۔ چین کا کہنا ہے کہ مغربی طاقتوں نے یہ قرارداد اقوام متحدہ کے قوانین کو بنیاد بناکر پیش کی ہے جس سے ایران کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کے لیے راستہ کھل جائے گا۔ قرارداد کے مسودے میں ایران سے کہا گیا ہے کہ یورینیم کی افزودگی روکے اور نہ روکنے کی صورت میں اس کے خلاف مزید کارروائیاں کی جاسکتی ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ لیکن مغربی ممالک کو تشویش ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ روس کے نائب وزیر خارجہ نے روسی ذرائع ابلاغ کو یہ بتایا ہے کہ قرارداد کے مسودے میں ’بڑی تبدیلیوں‘ کی ضرورت ہے اور مسودے پر بات چیت ’جاری رہے گی‘۔ اقوام متحدہ میں روسی سفیر ویتالی چُرکِن نے کہا کہ ان کا ملک اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب سات کے تحت قرارداد کی منظوری کے خلاف ہے۔ باب سات کے قوانین کے تحت پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں اور مزید فیصلوں کے بعد فوجی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ چین بھی باب سات کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے۔ چین نے مسودے میں ایران سے عالمی امن اور سکیورٹی کو ہتھیاروں کے ’خطرے کے پھیلاؤ‘ جیسے الفاظ شامل کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ روس اور چین نے مسودے کے اس نکتے پر بھی اعتراض کیا ہے کہ جس میں دوسرے ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ ایران کو ایسی ٹیکنالوجی نہ فروخت کریں جس سے اس کے ایٹمی پروگرام کی مدد ہوسکتی ہے۔ روس اور چین کا کہنا ہے کہ یہ بھی ایک طرح کی پابندی ہے۔ لیکن بی بی سی کی صحافی لورا ٹریولیان کا کہنا ہے کہ قرارداد پر اتفاق مشکل لگتا ہے کیوں کہ چین اور روس کے پاس ویٹو کا حق حاصل ہے۔ |
اسی بارے میں ایران ناکام رہا ہے: آئی اے ای اے28 April, 2006 | آس پاس ’یورپ بحران پیدا کرنا چاہتا ہے‘05 May, 2006 | آس پاس سلامتی کونسل میں ایران پر بحث04 May, 2006 | آس پاس پابندیاں لگنے کا امکان نہیں: ایران02 May, 2006 | آس پاس جوہری توانائی مطلق حق ہے: نژاد 29 April, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||