BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 April, 2006, 16:06 GMT 21:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران ناکام رہا ہے: آئی اے ای اے
آئی اے ای اے کی رپورٹ کی کوئی پرواہ نہیں: صدر احمدی نژاد
اقوام متحدہ کے نگراں ایٹمی ادارے آئی اے ای اے نے کہا کہ ایران سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یورینیم کی افزودگی روکنے میں آج کی ڈیڈلائن تک ناکام رہا ہے۔

آئی اے ای اے یعنی انٹرنیشنل ایٹامِک اینرجی ایجنسی کے سربراہ محمد البرادعی کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران تین اعشاریہ چھ فیصد تک یورنیم کی افزودگی کرنے میں کامیاب رہا ہے جو کہ ایٹمی پلانٹ میں استعمال کے لیے کافی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کو یورینیم کی افزودگی روکنے کے لیے اٹھائیس اپریل کی ڈیڈلائن دی تھی۔ آئی اے ای نے کہا کہ ایران سلامتی کونسل کی قرارداد کی مخالفت میں یورینیم کی افزودگی جاری رکھے ہوا ہے۔

تاہم آئی اے ای اے نے کہا کہ اسے ایرانی حکومت کی جانب سے ایک خط ملا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر یہ معاملہ اقوام متحدہ میں نہ جائے تو ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے بارے میں پیدا ہونے والے سوالات کو واضح کرنا چاہے گا۔

امریکی سفیر کا ردعمل
 آئی ای اے ای کی یہ رپورٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران ایٹمی بم بنانے کی جانب تیزی سے کام کررہا ہے۔
امریکی سفیر جان بولٹن
اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے سلامتی کونسل میں امریکہ کے سفیر جان بولٹن نے کہا کہ آئی اے ای اے کی رپورٹ اس بات کا ’ثبوت‘ ہے کہ ایران ایٹمی بم بنانے کی جانب تیزی سے کام کررہا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ لیکن مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ ایران ایٹمی بم بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ مغربی ممالک کے اسی خدشے کے مدنظر سلامتی کونسل نے ایران کو تیس دن کے اندر یورینیم کی افزودگی روکنے کی ڈیڈلائن دی تھی۔

آئی اے ای اے کی رپورٹ سے قبل ایران کے صدر احمدی نژاد نے کہا کہ انہیں اس رپورٹ کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور اپنا ایٹمی پروگرام جاری رکھیں گے۔

جمعہ کےروز واشنگٹن میں امریکی صدر جارج بش نے کہا کہ وہ ایران کے ایٹمی تنازعے کو ’پرامن اور سفارتی‘ طریقے سے حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ تاہم امریکہ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو خارج از امکان نہیں قرار دیا ہے۔

امریکہ ایران پر پابندیاں لگانے کے لیے کوشش کررہا ہے لیکن چین اور روس ایسے اقدامات کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔

مغربی ممالک کے فوجی اتحاد نیٹو کے وزرائے خارجہ کی ایک کانفرنس کے دوران امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ سلامتی کونسل جس طرح سے ایران کے ایٹمی تنازعے پر فیصلے کرتی ہے اس سے اس کی ساکھ متاثر ہوسکتی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگر سلامتی کونسل ایران پر پابندیاں عائد نہیں کرتی تو ہوسکتا ہے کہ وہ ممالک جو اقوام متحدہ کے بغیر بھی پابندیاں لگاسکتے ہیں وہ ایسا کریں گے۔

ایران نے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے اس پر حملے کیے تو پوری دنیا میں امریکی تنصیبات پر حملے کیے جائیں گے۔ ایران کے اعلیٰ رہنما آیت اللہ علی خامنئی نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ایران اپنی ایٹمی ٹیکنالوجی دوسرے ممالک کو بھی دے گا۔

اصفہان کا ایٹمی پلانٹایرانی پیش رفت
یورینیم کی افزدگی میں ایرانی پیش رفت
ایران جوہری تنازعہ: پابندیاں یا سفارتی حل؟ آپ کیا کہتے ہیں؟
ایران جوہری تنازع: پابندیاں یا سفارتی حل؟
وزیرِخارجہ جیک سٹراایران پرایٹمی حملہ
امریکی حملہ، امریکی اطلاعات، برطانوی تردید
فوجی حل پر اتفاق
ایران پر حملے کی تجویز پر امریکی سینیٹر متفق
حملہ کب اور کیسے؟
ایران پر حملہ، قیاس آرائیاں اور ممکنات
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد