ایران ناکام رہا ہے: آئی اے ای اے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے نگراں ایٹمی ادارے آئی اے ای اے نے کہا کہ ایران سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یورینیم کی افزودگی روکنے میں آج کی ڈیڈلائن تک ناکام رہا ہے۔ آئی اے ای اے یعنی انٹرنیشنل ایٹامِک اینرجی ایجنسی کے سربراہ محمد البرادعی کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران تین اعشاریہ چھ فیصد تک یورنیم کی افزودگی کرنے میں کامیاب رہا ہے جو کہ ایٹمی پلانٹ میں استعمال کے لیے کافی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کو یورینیم کی افزودگی روکنے کے لیے اٹھائیس اپریل کی ڈیڈلائن دی تھی۔ آئی اے ای نے کہا کہ ایران سلامتی کونسل کی قرارداد کی مخالفت میں یورینیم کی افزودگی جاری رکھے ہوا ہے۔ تاہم آئی اے ای اے نے کہا کہ اسے ایرانی حکومت کی جانب سے ایک خط ملا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر یہ معاملہ اقوام متحدہ میں نہ جائے تو ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے بارے میں پیدا ہونے والے سوالات کو واضح کرنا چاہے گا۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ لیکن مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ ایران ایٹمی بم بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ مغربی ممالک کے اسی خدشے کے مدنظر سلامتی کونسل نے ایران کو تیس دن کے اندر یورینیم کی افزودگی روکنے کی ڈیڈلائن دی تھی۔ آئی اے ای اے کی رپورٹ سے قبل ایران کے صدر احمدی نژاد نے کہا کہ انہیں اس رپورٹ کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور اپنا ایٹمی پروگرام جاری رکھیں گے۔ جمعہ کےروز واشنگٹن میں امریکی صدر جارج بش نے کہا کہ وہ ایران کے ایٹمی تنازعے کو ’پرامن اور سفارتی‘ طریقے سے حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ تاہم امریکہ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو خارج از امکان نہیں قرار دیا ہے۔ امریکہ ایران پر پابندیاں لگانے کے لیے کوشش کررہا ہے لیکن چین اور روس ایسے اقدامات کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ مغربی ممالک کے فوجی اتحاد نیٹو کے وزرائے خارجہ کی ایک کانفرنس کے دوران امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ سلامتی کونسل جس طرح سے ایران کے ایٹمی تنازعے پر فیصلے کرتی ہے اس سے اس کی ساکھ متاثر ہوسکتی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگر سلامتی کونسل ایران پر پابندیاں عائد نہیں کرتی تو ہوسکتا ہے کہ وہ ممالک جو اقوام متحدہ کے بغیر بھی پابندیاں لگاسکتے ہیں وہ ایسا کریں گے۔ ایران نے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے اس پر حملے کیے تو پوری دنیا میں امریکی تنصیبات پر حملے کیے جائیں گے۔ ایران کے اعلیٰ رہنما آیت اللہ علی خامنئی نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ایران اپنی ایٹمی ٹیکنالوجی دوسرے ممالک کو بھی دے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||