ایران پر حملہ، قیاس آرائیاں اور ممکنات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ ایران پر حملہ کرے گا یا نہیں کرے گا؟ اس بحث نے اب زور پکڑ لیا ہے بلکہ اب قیاس آرائیاں ایک آرٹیکل کے شائع ہونے کے ساتھ ہی ایک نئے موڑ پر آگئی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ ایران پر حملے کی صورت میں ’بنکر بسٹر‘ قسم کے بم استعمال کرنے پر غور کررہا ہے۔ ’نیویارکر‘ میگزین کا یہ آرٹیکل ایک سابق فوجی شیمور ہرش نے لکھا ہے۔ جنوری 2005 میں لکھے گئے ایک آرٹیکل کا یہ دوسرا حصہ ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران پر فضائی حملے کا امکان موجود ہے۔ شیمور ہرش نے اب اس میں نیا اضافہ یہ کیا ہے کہ ایران پر حملہ جوہری نوعیت کا بھی ہو سکتا ہے۔
تاہم برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا نے اس خیال کو رد کرتے ہوئے اسے ’بیوقوفانہ‘ قرار دیا ہے۔ شیمور ہرش کا کہنا ہے کہ پینٹاگون نے شروع میں بش انتظامیہ کو بتایا تھا کہ کامیابی کو یقینی بنانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے جوہری حملہ۔ ہرش کے آرٹیکل کے چند اقتباسات یہ ہیں: ’کوئی بھی زور و شور سے جوہری حملے کے حق میں نہیں ہے، وہ صرف کامیابی کو سو فیصد یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جوائنٹ چیف جوہری حملے کے امکان کو ختم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ظاہر ہے کہ ایسا کرنا تو پاگل پن ہی ہے۔ مشرق وسطٰی کے عرب مسلم ملک پر جوہری ہتھیار کا استعمال۔۔ میرے خدا۔ مگر وائٹ ہاؤس اس امکان کو رد نہیں کررہا‘۔ ’مسئلہ یہ ہے کہ وائٹ ہاؤں میں چند لوگ جوہری حملے کے حق میں ہیں۔ اور اسی سے مسئلہ مزید پیچیدہ ہورہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ ایسا نہ ہو مگر وائٹ ہاؤس اس امکان کو رد نہیں کررہا‘۔
ایران پر حملے سے متعلق دو سوال ہیں۔ ایک یہ کہ کیا ایران پر حملہ ممکن ہے، اور دوسرے یہ کہ اس حملے کی نوعیت کیا ہوگی۔ کسی نہ کسی مرحلے پر حملے کا امکان تو ضرور موجود ہے مگر فی الحال زور اس بات پر ہے کہ سفارتکاری کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام کو روکا جائے۔ یعنی ابھی ایران پر حملہ مغربی سفارتکاروں کے ایجنڈے پر موجود نہیں مگر مستقبل میں ایسا ہو بھی سکتا ہے۔ جوہری حملے سے بے شمار مسائل پیدا ہوں گے۔ پہلی بات تو یہ کہ ’بنکر بسٹر‘ کے استعمال سے ریڈیائی لہریں پیدا ہوں گی جو ہزاروں شہریوں کی موت کا باعث بن سکتی ہیں۔ دوسری بات یہ کہ اس کے سیاسی طور پر منفی نتائج سامنے آئیں گے۔ یعنی امریکہ کا ایک ایسے مسلم ملک پر جوہری حملہ کرنا جو بذات خود ایسے ہتھیاروں سے لیس نہیں بلکہ صرف ایسا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔۔۔ تیسرے اس سے امریکہ کے اپنے اندر سیاسی اختلافات پیدا ہوسکتےہیں کیونکہ اصولی طور پر امریکہ نئے بنکر بسٹر بنانے سے اجتناب کررہا ہے۔ اس معاملے میں حملے کے قانونی جواز کا بھی سوال ہے۔
اگر جوہری بم نہ استعمال کیئے گئے تب بھی ایسے ہتھیار استعمال کیئے جاسکتے ہیں جو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے اثرات تو جوہری ہتھیار جتنے ہی ہوں گے مگر سیاسی طور پر منفی نتائج کچھ کم ہوجائیں گے۔ ایسے ہی ایک بم ’بگ بلو‘ کی تیاری پر کام ہورہا ہے۔ ہرش کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران میں امریکہ کے جاسوسوں نے حملے کے اہداف کا تعین بھی کرلیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کے جوہری پروگرام کے مقاصد پر امن ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے رویے سے یہ بھی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ وہ ایران کو محض ڈرانے کی کوشش کررہا ہے تاکہ وہ اپنا جوہری پروگرام روک سکے۔ ہرش کے الفاظ میں ’واشنگٹن ایرانی صدر احمدی نژاد کو ایڈولف ہٹلر سمجھتا ہے‘۔
تمام بحث ایک طرف، لیکن اس بات سےکوئی اختلاف نہیں کرے گا کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے لیس ہوتا نہیں دیکھ سکتا اور ایسا کرنے سے روکنے کے لیئے پکا ارادہ رکھتا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ جوہری تحقیق کا مقصد توانائی پیدا کرنا ہے اور وہ جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ بظاہر ایران جوہری ہتھیاروں سے تو لیس ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا لیکن اس کے پاس ’جوہری صلاحیت‘ ضرور آجائے گی۔ اگر ایران پر حملہ ہوا تو وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے دستبردار ہوسکتا ہے جس سے تنازعہ بڑھنے کا امکان ہے۔ ممکن ہے ایران اپنے ملک میں اور خلیج میں امریکی تنصیبات پر جوابی کارروائی بھی کرے۔ برطانیہ کے ایک تحقیقات کار ڈین پلش کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پاس صلاحیت ہے کہ وہ ایران کے فوجی ڈھانچے کو تباہ کردے۔ ’شاید یہ کہنا پاگل پن سمجھا جائے گا لیکن بات یہ ہے کہ امریکہ اس معاملے کے حل کے لیئے اقوام متحدہ یا یورپی یونین پر اعتبار کھو چکا ہے اور وہ اس معاملے کو فوجی طور پر حل کرسکتا‘۔ | اسی بارے میں ایران پر میٹنگ نہیں: برطانیہ02 April, 2006 | آس پاس ایران کو تیس دن کی مہلت 30 March, 2006 | آس پاس ایران کے خلاف بیان کی منظوری29 March, 2006 | آس پاس ایرانی پیشکش ایک بہانہ: امریکہ18 March, 2006 | آس پاس ایران، امریکہ بات چیت کے لیے تیار16 March, 2006 | آس پاس ایران سےشدید تشویش ہے: امریکہ 11 March, 2006 | آس پاس ’ایران سلامتی کونسل کا امتحان‘ 10 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||