ایران، امریکہ بات چیت کے لیے تیار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ اور ایران چھبیس سال بعد عراق کے مسئلے پر براہ راست بات چیت کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان آخری مرتبہ 1979 کے بعد یہ پہلا مرتبہ براہ راست رابطہ ہو گا۔ ایران کے مذاکرات کار علی لارا جانی نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ عراق کا مسئلہ حل کرنے کے لیے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ عراق کے مسئلے پر بات چیت کرنے کے لیے تیار ہے لیکن وہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں اس سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔ مذاکرات کی کوئی تاریخ اور جگہ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ عراق میں امریکہ کے سفیر ظلمے خلیل زاد ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے بااخیتار ہیں لیکن ان کا دائرہ کار صرف عراق تک محدود ہے۔ کچھ روز پہلے عراق کے بااثر شیعہ رہنما عبد العزیز الحکیم نے عراق کے مسئلے پر ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ | اسی بارے میں ایران پرامریکی پالیسی میں تبدیلی11 March, 2005 | آس پاس ایران سےشدید تشویش ہے: امریکہ 11 March, 2006 | آس پاس ’جوہری پروگرام جاری رکھیں گے‘09 March, 2006 | آس پاس ’فوجی کارروائی کا راستہ کھلا ہے‘10 March, 2006 | آس پاس ’حملوں کا ذمہ دار ایران ہے‘13 March, 2006 | آس پاس روس کی ایران سے پریشانی13 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||