’جوہری پروگرام جاری رکھیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے صدر احمد ی نژاد نے کہا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کوئی بھی قدم اٹھایا گیا تو مغرب کو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جوہری معاملے پر ایران کسی دھمکی یا دباؤ میں نہیں آئے گا اور اس کا جوہری پروگرام جاری رہے گا۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر جان بولٹن نے ایران پر اس کے جوہری پروگرام کی بندش کے لیئے بین الاقوامی دباؤ میں مزید اضافے پر زور دیا ہے۔ جون بولٹن کا کہنا ہے کہ تہران کوعالمی برادی کی حکم عدولی پر فوری مزا چکھانے کی ضرورت ہے۔ بولٹن کا حالیہ بیان اقوام متحدہ کے جوہری امور کے نگران ادارے آئی اے ای اے کے اس فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے کہ جس میں اس نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ سلامتی کونسل کے سپرد کیا جائے۔ ایران کا کہنا ہے کہ کسی پرامن نتیجے تک پہنچنے کے لیئے اس نے ہر ممکن اقدامات اٹھائے ہیں لیکن امریکہ نے سفارتی عمل کو ’ہائی جیک‘ کرلیا ہے۔
آئی اے ای اے میں ایران کے سفیر علی اصغر سلطانی کا کہنا ہے کہ ’ہم اس معاملے پر تصادم نہیں چاہتے لیکن اگر یہ امریکی پالیسی یا خواہش ہے تو ایرانی قوم ملکی سالمیت اور مفادات کا دفاع ضرور کرے گی‘۔ روس کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایٹمی ایجنسی کو ایران کے جوہری پروگرام کےمعاملے کو سلجھانے کے لیئے ہرممکن کوشش جاری رکھنی چاہیے۔ روسی وزیر متذبذب تھے کہ آیا ایران کے خلاف پابندیاں موثر ثابت ہوں گی یا نہیں۔ مغربی اقوام ایران پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا الزام لگا چکی ہیں جبکہ ایران کا اصرار ہے کہ اس کے جوہری پروگرام کا مقصد محض ملک میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ سلامتی کونسل اگلے ہفتے تک ایران کےمعاملے پر بات چیت کا آغاز کر دے گی۔ سلامتی کونسل کو ایران پر پابندی کا اختیار ہے لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس کے تمام اراکین ایران کے خلاف پابندیوں کی حمایت کریں گے۔ | اسی بارے میں ایران روس مذاکرات کا دوسرا دور01 March, 2006 | آس پاس ایران پر آئی اے ای اے کااجلاس شروع06 March, 2006 | آس پاس جوہری ایجنسی معاوضہ ادا کرے: ایران07 March, 2006 | آس پاس جوہری پروگرام روکنے سے انکار08 March, 2006 | آس پاس ایران: سلامتی کونسل کے حوالے08 March, 2006 | آس پاس ’مذاکرات کے سوا کوئی راستہ نہیں‘09 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||