BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران: سلامتی کونسل کے حوالے
البرادئی
جوہری توانائی کا عالمی ادارہ آئی اے ای اے کئی ماہ سے ایران سے مذاکرات کر رہا ہے
ایران کے جوہری توانائی کے بارے میں اقوام متحدہ کے ادارے کی رپورٹ ممکنہ تعزیری کارروائی کے لیے سلامتی کونسل کو بھجوائی جارہی ہے۔

اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے آئی اے ای اے یہ فیصلہ ویانا میں ایک اجلاس میں اس معاملے پر تفصیلی بحث کے بعد کیا ہے۔

امریکہ اقوام متحدہ پر زور دے رہا ہے کہ ایران کو متنبہ کیا جائے کہ اگر اس نے اپنا جوہری پروگرام نہ روکا تو اسے اس کے ’نتائج‘ بھگتنا ہوں گے۔

امریکہ نے سلامتی کونسل سے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کارروائی کرے۔ امریکہ نے ایران کے مذاکرات کرنے کے عمل کو بناوٹی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ مجرمانہ دھمکیاں دے رہا ہے۔

ادھر ایران نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ جو بھی فیصلہ کرے وہ اپنا جوہری پروگرام جاری رکھےگا۔

ایران نے ایک سخت بیان میں کہا ہے کہ ’امریکہ نقصان اور تکلیف پہنچانے کا اہل ہے۔ اگر امریکہ یہی راستہ چننے کی خواہش رکھتا ہے تو ایسے ہی صحیح‘۔

صدر محمود احمدی نژاد کا کہنا ہے کہ ’ہم کسی دباؤ کے آگے سر خم نہیں کریں گے‘۔

انہوں نے کہا ہے کہ ’اگر ہم مضبوط مزاحمت کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو انہیں ایرانی قوم کے جذبے کے سامنے شرمناک شکست کا سامنا کرنا ہوگا۔‘

وہائٹ ہاؤس نے یہ کہہ کر اس پر اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے کہ ’ایران کا رویہ مشتعل کر دینے والا ہے اور تہران کو مزید تنہا کردے گا۔‘

جوہری توانائی کے ادارے آئی اے ای اے کے امریکی مندوب نے اس تازہ رپورٹ کے بارے میں کہا ہے کہ اس سے واضح ہوا ہے کہ ایران یورنیم کی افزودگی معطل کرنے کے معاملے پرجوہری توانائی کے ادارے کو مطمئن کرنے میں ناکام رہا ہے۔

امریکہ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس دس ایٹم بم بنانے کےبرابر یورینیم موجود ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ سکیورٹی کونسل ان کے خلاف اقدام کرے۔

توقع ہے کہ سلامتی کونسل اگلے ہفتے سے ایران کے معاملے پر بات چیت شروع کرے گی۔

جوہری توانائی کے ادارے آئی اے ای اے میں ایرانی مندوب جاوید ویدی نے کہا ہے کہ ان کا ملک تیل کی برآمد بند کرسکتا ہے تاہم ایران کے وزیر تیل کاظم وزیری نے کہا ہے کہ ان کا ملک تیل کی ترسیل بند نہیں کرے گا خواہ جوہری معاملے پر اس پر پابندیاں لگا دی جائیں۔

ایران دنیا میں تیل کی برآمد کا چوتھا بڑا ملک ہے اور اس کی آمدنی کا زیادہ تر انحصار تیل کی برآمدات پر ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد