جوہری معاملہ،ایران ای یومذاکرات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران اپنے جوہری معاملہ کو اقوام متحدہ میں جانے سے رکوانے کے لیے پورپی یونین کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔ ویانا میں ہونے والے یہ مذاکرات ایران کی درخواست پر ہو رہے ہیں۔اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل تین دن بعد ایران کے جوہری معاملہ پر غور شروع کرنے والی ہے۔ مبصرین کے مطابق ایران اور یورپی یونین کے تین ممالک، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے درمیان مذاکرات کا یہ نیا دور بہت اہم ہے اور اگر یہ بھی ناکام رہا تو ایران پر اقتصادی پابندیاں بھی لگ سکتی ہیں۔ یورپی ممالک کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ وہ اس میٹنگ میں صرف ایرانی تجویزوں کو سنیں گے اور اپنی طرف سے کوئی نئی تجویز پیش نہیں کریں گے۔ ایران نے حال ہی میں یورینیم کی افزودگی پر تحقیق بحال کردی ہے جسے ماضی میں معطل کردیا گیا تھا۔اگرچہ ایران ابھی پوری طرح سے یورینیم افزودہ نہیں کررہا جو ایٹمی ہتھیاروں کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کی جوہری تحقیق محض توانائی پیدا کرنے کے لیے ہے اور اس کا کوئی فوجی مقصد نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے جوہری معاملات پر نظر رکھنے والا ادارے آئی اے ای اے نے ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ سلامتی کونسل کو بھیج رکھا ہے۔ |
اسی بارے میں ’ایران افزودگی کا عمل تیز کر رہا ہے‘28 February, 2006 | آس پاس ایران روس جوہری مذاکرت ختم21 February, 2006 | آس پاس ’تحقیق ہر صورت جاری رہےگی‘20 February, 2006 | صفحۂ اول ایران کو سلامتی کونسل کا سامنا03 February, 2006 | آس پاس افزودگی شروع کردیں گے: ایران01 February, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||