BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 November, 2005, 15:30 GMT 20:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران ایٹمی پروگرام کے شواہد: یو این
اصفہان کا ایٹمی پلانٹ
اگلے ہفتے سیکیورٹی کونسل میں جانے کے بارے میں فیصلہ ہو گا
اقوامِ متحدہ کے ادارے ایٹمی توانائی ایجنسی نے کہا ہے کہ اسے ایران کے قبضے سے ایٹم بم بنانے کے بارے میں ہدایات کے شواہد ملے ہیں۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ اسے یہ ہدایات ان کاغذات سے ملیں جو ایران نے ادارے کو تفتیش کے لیے پیش کی تھیں۔

ایران نے کہا ہے کہ اس نے ان ہدایات کے لیے کوشش نہیں کی تھی بلکہ انہیں ڈاکٹر قدیر کی سربراہی میں قائم سمگلنگ کے نیٹ ورک نے وہاں پہنچایا۔

یہ انکشاف ایٹمی ایجنسی کی اس خفیہ رپورٹ میں ہے جس کا لبِ لباب یہ ہے کہ اگرچہ ایران تعاون کر رہا ہے لیکن ابھی تک اس نے شفاف طریقہِ کار اختیار نہیں کیا۔

اس دوران امریکہ کے ایک اعلٰی عہدیدار نے کہا ہے کہ وہ یورپی یونین کے ان نمائندگان سے ملاقات کریں گے جو ایران کے ساتھ اس کے ایٹمی پروگرام کے مسئلے پر مذاکرات کر رہے ہیں۔

لندن میں ہونے والی یہ ملاقات ان خبروں کے حوالے سے طے کی گئی ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ ایران اپنے اصفہان پلانٹ پر یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کر رہا ہے۔

امریکہ نے ایران کے اس اقدام کو ناخوشگوار قرار دیا ہے۔ یہ سب اقوامِ متحدہ کے ایٹمی ادارے کی اس ملاقات سے ایک ہفتہ قبل ہو رہا ہے جس میں ایران کے معاملے کو سیکیورٹی کونسل میں پیش کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

امریکہ کو شبہ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔ اس الزام کو ایران متعدد موقعوں پر رد کر چکا ہے۔

امریکہ کے سیاسی امور کے انڈر سیکریٹری نکولس برنز اس سلسلے میں فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے نمائندگان سے مذاکرات کریں گے۔

امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان آدم ایریلی نے کہا ہے کہ یورینیم کی افزودگی کے اس فیصلے پر امریکہ کو شدید تحفضات ہیں۔

انہوں نہ کہا: ’ یہ ان بہت سے اقدامات میں سب سے ایک ہے جو ایران اپنے وعدوں اور عالمی برادری کے مطالبات کے برعکس کر رہا ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ برنز اور انکے یورپی ہم منصب اس معاملے پر غور کریں گے کہ ہم اپنے مشترکہ مقاصد کو کیسے حاصل کریں۔

یورپی یونین کے یہ تین ممالک فرانس، جرمنی اور برطانیہ اس مسئلے پر ایران سے مذاکرات کے عمل میں شریک رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کا نگران ادارہ ’بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی‘ اگلے ہفتے ایران کے مسئلے پر ہونے والی ملاقات کے لیے اپنی رپورٹ کو حتمی شکل دے رہا ہے۔

ایٹمی توانائی ایجنسی کا 35 رکنی بورڈ آف گورنرز اس معاملے پر غور کرے گا کہ آیا ایران کے معاملے کو اقتصادی پابندیاں لگانے کے لیے اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں پیش کیا جانا چاہیے یا نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد