BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 November, 2005, 14:13 GMT 19:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یورپی یونین: ایرانی پیشکش کا جائزہ
 ایران
اقوام متحدہ ان تنصیبات تک آزدانہ رسائی چاہتا ہے
یورپی یونین نے کہا ہے کہ وہ جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے ایران کی پیشکش کا جائزہ لے رہا ہے۔

ایران نے یہ پیشکش اتوار کو لکھے جانے والے ایک خط کے ذریعے کی ہے یہ خط جوہری امور پر ایران کے مذاکرات کا کی جانب سے فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ کو لکھا گیا تھا۔

ایران سے جوہری تنصیبات کے معائنے پر یورپی یونین کے مذاکرات گزشتہ اگست میں منقطع ہو گئے تھے اور ایران نے ان ممالک کی اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے یورینیم کی مبینہ افزودگی شروع کر دی تھی۔

کہا جاتا ہے کہ ایران نے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو پارچن کے فوجی علاقے میں جوہری تنصیبات کے معائنے کی بھی اجازت دے دی ہے۔

جوہری توانائی کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ آئی اے ای اے گزشتہ ایک برس سے ان تنصیبات تک آزادانہ رسائی کی کوشش کر رہا تھا تاکہ امریکہ کے اس الزام کی تصدیق کر سکے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے یا نہیں۔

اس سلسلے میں آئی اے ای اے نے حال ہی میں ایک قرارداد منظور کی ہے جس نے ایران کے خلاف جوہری خلاف ورزیوں کا معاملہ سلامتی کونسل میں لے جانے کی راہ ہموار کر دی ہے۔

ایران کا مسلسل یہ کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ نے ایران کی نئی پیشکش کے بارے میں کہا ہے کہ ’ہم اس کا بغور جائزہ لیا ہے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ایران پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آئی اے ای اے کی قرار دادوں پر مثبت ردِ عمل کا اظہار کرے اور ہم بھی اس بات کا جائزہ لیں گے کہ وہ ایسا کرتا ہے یا نہیں۔

برطانیہ فرانس اور جرمنی یورپی یونین کی طرف سے جوہری پروگرام پر ایران سے مذاکرات کرتے رہے ہیں۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران نے پارچن کے علاقے میں قائم جوہری تنصیبات میں جوہری ہتھیار بنانے کے مختلف ٹیسٹ کیے۔

ویانا سے بی بی سی کے نمائندے نے یورپی سفارت کارروں کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ایران کی طرف سے پارچن میں تنصیبات کے معائنے کی اجازت مثبت قدم ہے اور ایران اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں دنیا کے تحفظات پر توجہ دے رہا ہے۔

66کشیدگی کے بادل
ایٹمی توانائی: ایران کا اصرار، مغرب کے خدشات
66جوہری ایران
پالیمان نے پروگرام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے
66ایران، بش کا ہدف
امریکی کمانڈو چھ ماہ سے ایران میں موجود ہیں
66ایران: سب ملتا ہے
پیسہ ہونا چاہئے تہران میں بھی ہر شے میسر ہے
اسی بارے میں
’ایران سر نہیں جھکائےگا‘
20 September, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد