یورپی یونین: ایرانی پیشکش کا جائزہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی یونین نے کہا ہے کہ وہ جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے ایران کی پیشکش کا جائزہ لے رہا ہے۔ ایران نے یہ پیشکش اتوار کو لکھے جانے والے ایک خط کے ذریعے کی ہے یہ خط جوہری امور پر ایران کے مذاکرات کا کی جانب سے فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ کو لکھا گیا تھا۔ ایران سے جوہری تنصیبات کے معائنے پر یورپی یونین کے مذاکرات گزشتہ اگست میں منقطع ہو گئے تھے اور ایران نے ان ممالک کی اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے یورینیم کی مبینہ افزودگی شروع کر دی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ایران نے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو پارچن کے فوجی علاقے میں جوہری تنصیبات کے معائنے کی بھی اجازت دے دی ہے۔ جوہری توانائی کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ آئی اے ای اے گزشتہ ایک برس سے ان تنصیبات تک آزادانہ رسائی کی کوشش کر رہا تھا تاکہ امریکہ کے اس الزام کی تصدیق کر سکے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے یا نہیں۔ اس سلسلے میں آئی اے ای اے نے حال ہی میں ایک قرارداد منظور کی ہے جس نے ایران کے خلاف جوہری خلاف ورزیوں کا معاملہ سلامتی کونسل میں لے جانے کی راہ ہموار کر دی ہے۔ ایران کا مسلسل یہ کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ نے ایران کی نئی پیشکش کے بارے میں کہا ہے کہ ’ہم اس کا بغور جائزہ لیا ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آئی اے ای اے کی قرار دادوں پر مثبت ردِ عمل کا اظہار کرے اور ہم بھی اس بات کا جائزہ لیں گے کہ وہ ایسا کرتا ہے یا نہیں۔ برطانیہ فرانس اور جرمنی یورپی یونین کی طرف سے جوہری پروگرام پر ایران سے مذاکرات کرتے رہے ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران نے پارچن کے علاقے میں قائم جوہری تنصیبات میں جوہری ہتھیار بنانے کے مختلف ٹیسٹ کیے۔ ویانا سے بی بی سی کے نمائندے نے یورپی سفارت کارروں کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ایران کی طرف سے پارچن میں تنصیبات کے معائنے کی اجازت مثبت قدم ہے اور ایران اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں دنیا کے تحفظات پر توجہ دے رہا ہے۔ |
اسی بارے میں ’ایران سے جوہری تعاون ختم کریں‘03 October, 2005 | آس پاس ’ایران سر نہیں جھکائےگا‘20 September, 2005 | آس پاس ’ایران: ابھی ایٹمی ہتھیاروں سےدور‘06 September, 2005 | آس پاس پابندیوں کی دھمکی نہ دیں: ایران19 September, 2005 | آس پاس احمدی نژاد کو ویزا دیں گے: صدر بش12 August, 2005 | آس پاس ایرانی موقف:یورپی یونین کی نرمی22 September, 2005 | آس پاس ’بم دھماکے میں ایران ملوث تھا‘05 October, 2005 | آس پاس برطانوی الزام جھوٹ ہے: ایران06 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||