’ایران: ابھی ایٹمی ہتھیاروں سےدور‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن کے ایک بارسوخ تحقیقی ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران کو نیوکلئیر ہتھیار بنانے کے صلاحیت حاصل کرنے میں ابھی بہت وقت درکار ہے۔ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجیک سٹڈی نے اس رپورٹ میں ایران کے نیوکلئیر، حیاتیاتی، کیمیاوی اور دور تک مار کرنے والے میزائیل پروگرام کا جائزہ لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ ایران کا سفارتی تنازعہ تقریباً ناگزیر ہوچکا ہے۔ اس رپورٹ میں اگرچے ایران کی نیوکلئیر پروگرام کی پوری تاریخ کا ، جو سابق شاہ کے کے زمانے سے شروع ہوتی ہے، جائزہ لیا گیا ہے لیکن رپورٹ میں اس سلسلے میں ایران کی سیاسی سوچ کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔ غالباً ہتھیاروں کے ماہرین کے لئے صرف یہی اہم ہوتا ہے کہ کسی ملک میں نیوکلئیر ہتپیار یا یورنیم کو افزود کرنے کی صلاحیت ہے یا نہیں۔ ایران کا موقف ہے کہ وہ نیوکلئیر صلاحیت توانائی کے مقاصد کے لئے حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن یہ ٹیکنالوجی جوہری ہتھیار بنانے کے لئے بھی استعمال ہوسکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران پچھلے بیس برس سے غیر اعلان شدہ نیوکلئیر کارروائیاں کررہا ہے اور اسی وجہ سے امریکہ اور یورپی یونین کو اس کے پروگرام پر تشویش ہے۔ ابھی تک ایران اس سلسلے میں محتاط رویہ اختیار کئے ہوئے ہے لیکن رپورٹ کے مطابق یہ ضروری نہیں کہ ایران ایسا ہی کرتا رہے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق ایران ابھی نیوکلئیر ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے سے بہت دور ہے اور اسے اس سلسلے میں دو بڑی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ ایک تو مناسب فسائیل مواد اور دوسرا نیوکلئیر مواد کو ہتھیار میں میں استعمال کرنے کے لئے ’وار ہیڈ۔‘ رپورٹ میں ایران کے میزائیل پروگرام کے بارے میں کچھ خاص تفصیلات نہیں دیں گئیں۔ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جس میں ایران نے حالیہ برسوں میں خاصی ترقی کی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||