ایرانی جوہری پروگرام پر سوالات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے جوہری ادارے نے کہا ہے کہ ڈھائی سال کی کڑی تفتیش کے بعد بھی ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں جواب طلب امور باقی ہیں۔ ادارے کی ایک خفیہ رپورٹ میں جسے بی بی سی نے دیکھا ہے، یہ کہا گیا ہے کہ ایران کے کے جوہری پروگرام کے بعض گوشوں کے بارے میں وضاحت کے لیے اب مکمل تعاون اور صفائی کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں زور دیاگیا ہے کہ ایران ادارے کو تمام دستاویزات، افراد اور تنصیبات تک رسائی مہیا کرے۔ ایران کے خاص مذاکرات کار علی لاریجانی نے کہا ہے کہ آئی اے ای اے کی رپورٹ میں بعض منفی نکات شامل ہیں تاہم تہران ادارے کے ساتھ تعاون جاری رکھےگا۔ اس سے پہلے امریکہ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا امکان ظاہر کیا تھا جس پر جرمنی کے چانسلر گرہارڈ شروڈر نے امریکہ کو متنبہ کیا ہے کہ ایران کے خلاف فوج استعمال کرنے کا خیال دل سے نکال دے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی نہیں چاہتا کہ ایران جوہری ہتھیار بنائے لیکن اس سے نمٹنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں مذاکرات میں امریکہ اور یورپی یونین سخت رویہ رکھیں۔ ایک اسرائیلی ٹی وی کو انٹرویو کے دوران ایران کے خلاف ممکنہ طور پر طاقت کے استعمال پر ایک سوال کے جواب میں صدر بش کا کہنا تھا کہ ’تمام راستے کھلے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ کسی بھی صدر کے لیے طاقت کا استعمال آخری حربہ ہوتا ہے اور ہم نے اپنے ملک کی حفاظت کے لیے ماضی قریب میں طاقت کا استعمال کیا ہے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||