صدر بش کی ایران کو دھمکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کو خارج از امکان قرار نہیں دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے جوہری مسئلے کے سفارتی حل کے لیے کام رہے تھے لیکن انہیں نہیں لگ رہا کہ اس مسئلے کا کوئی سفارتی حل ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ ایک اسرائیلی ٹی وی کو انٹرویو کے دوران ایران کے خلاف ممکنہ طور پر طاقت کے استعمال پر ایک سوال کے جواب میں صدر بش کا کہنا تھا کہ ’تمام راستے کھلے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ کسی بھی صدر کے لیے طاقت کا استعمال آخری حربہ ہوتا ہے اور ہم نے اپنے ملک کی حفاظت کے لیے ماضی قریب میں طاقت کا استعمال کیا ہے‘۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نمائندے جوناتھن بیل کے مطابق عراق میں امریکی فوج کے خلاف جاری مزاحمت کے باوجود صدر بش نے ایران کو واضح الفاظ میں تنبیہ کی ہے۔ جوہری پروگرام کے لیے اقوامِ متحدہ کے نگران ادراے ’آئی اے ای اے‘ نے بھی ایران سے کہا ہے کہ وہ جوہری ایندھن کی تیاری روک دے۔ ایران کے سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی نے’آئی اے ای اے‘ کی جانب سے اس مطالبے پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ حیران ہیں کہ کسی بھی ملک نے یورپی یونین کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد کی مخالفت نہیں کی۔ ہاشمی رفسنجانی کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے جوہری ایندھن کی تیاری کی مخالفت مغربی دنیا کو بہت مہنگی پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’ ایرانی عوام اپنے جوہری حقوق سلب نہیں ہونے دیں گے‘۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جوہری سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ ناگزیر تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو عراق اور لیبیا نہیں سمجھنا چاہیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||