’ایران یورینیم کی افزودگی روک دے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے ادارے آئی اے ای اے نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں ایران سے کہا گیا ہے کہ وہ ایٹمی ایندھن کی افزودگی روک دے۔ اس اصرار کے ساتھ کسی طرح کا کوئی انتباہ نہیں دیا گیا جس کا مطلب یہ لیا جا رہا ہے کہ بات چیت کے دروازے کھلے رکھے گئے ہیں۔ ایران نے آئی اے ای اے کے اجلاس میں منظور کی جانے والی قرار داد کی مذمت کی ہے اور اسے دباؤ ڈالنے کا ایک آلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئے گا۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ خفیہ طور پر کوئی ایٹمی اسلحہ نہیں تیار کر رہا۔ قرارداد میں آئی اے ای اے نے ایٹمی ایندھن کی افزودگی کو دوبارہ شروع کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ قرارداد میں یہ نہیں کہا گیا کہ ایران کے معاملے کو سلامتی کونسل لے جانا چاہیے، جس کے پاس ایران پر پابندیاں لگانے کا اختیار ہے۔ اس سے پہلے ایران نے خبردار کیا تھا کہ اس کے جوہری پروگرام کے معاملے کو سلامتی کونسل لے جانا بہت بڑی غلطی ہوگی۔ ویانا میں بی بی سی کی نامہ نگار ایما جین کربی نے کہا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ ایران پر سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایران نے یورپی یونین کی تنبیہہ کے باوجود بدھ کے روز اصفہان کے جوہری پلانٹ میں اقوام متحدہ کی جوہری ایجنسی کی لگائی تمام سیلز توڑ کر پلانٹ میں یورینیم کی افزودگی کا کام شروع کر دیا ہے۔ یورپی یونین نے جوہری توانائی سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے آئی اے ای اے کو بھیجی گئی ایک قرارداد میں ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یورینیم کی افزودگی بند کر دے۔ تاہم اجلاس میں شریک ایران کے مرکزی مذاکرات کار نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ایندھن پیدا کرنے کا پورا حق ہے۔ سائرس ناصری نے بی بی سی کے نیوز نائٹ پروگرام کو بتایا کہ یورپی یونین سے ساتھ جوہری پروگرام کو معطل رکھنے سے متعلق ایران کی بات چیت ناکام ہو گئی ہے۔ انہوں نے یورپی یونین کی طرف سے اقتصادی اور سیاسی مراعات کو ’لولی پاپ کا پیکیج‘ قرار دیتے ہوئے رد کر دیا اور کہا کہ ایران کو نہ ان مذاکرات سے پہلے کوئی امید تھی اور نہ کبھی ہو گی۔ برطانیہ کا کہنا ہے کہ ایران کی طرف سے جوہری پلانٹ کو کھولنا جوہری ایجنسی کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یورپی یونین نے ایک قرارداد پیش کی ہے جس میں ایران سے کہا گیا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی کی تمام سرگرمیاں فوری طور پر بند کرے ۔ ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے اور مغرب کو اس سے کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||