جوہری پالیسی جاری رہے گی: نژاد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نو منتخب ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے ملک کی نیوکلیئر پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔ صدر منتخب ہونے کے بعد اپنی پہلی اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کو توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جوہری پروگرام کی ضرورت ہے۔ امریکہ ایران پر الزام لگا چکا ہے کہ ایران توانائی کے نام پر جوہری اسلحہ کا پروگرام چلا رہا ہے۔ مسٹر احمدی نژاد نے بظاہر امریکہ کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے امکان کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ ایران کو امریکہ کی ضرورت نہیں۔ نومنتخب صدر نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ایران کا پرامن جوہری پروگرام سائنس کے میدان میں ملک کی نوجوان نسل کی کاوشوں کا ثمر ہے۔ ’ایران کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ تمام میدانوں میں سائنسی ترقی حاصل کرے۔ ہمیں توانائی، طِبی، زرعی اور سائنسی ترقی کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔‘ ’ہمیں اپنے ملک کی ترقی کے لیے اس کی ضرورت ہے اور ہم اسے جاری رکھیں گے۔‘ ایران اور یورپی یونین کے مابین جوہری مسئلے پر ہونے والے مذاکرات کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’قومی مفادات کے تحفظ اور ایرانی قوم کے پرامن جوہری پروگرام جاری رکھنے کے حق پر زور دیتے ہوئے ہم مذاکرات کے عمل کو جاری رکھیں گے۔‘ مسٹر محمود احمدی نژاد نے کہا کہ ان کی حکومت ’امن اور اعتدال‘ کا بول بالا کرے گی اور ’جیو اور جینے دو‘ ان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہو گا۔ انہوں نے امریکہ کی طرف سے تنقید کا نشانہ بننے والے ایرانی انتخابی نظام کا بھی دفاع کیا اور کہا کہ یہ ایرانی عوام کی خواہشات کی عکاسی کرتا ہے۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کو امریکہ سے تعلقات قائم کرنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے۔ دریں اثناء اسرائیل آخری ملک ہے جس نے محمود احمدی نژاد کے صدر منتخب ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی نائب وزیر اعظم شیمون پیریز نے ایرانی صدارتی انتخاب کو انتہا پسندوں کے درمیان مقابلہ قرار دیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||