ایران انتخابات: کانٹے دار مقابلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے صدارتی امیدوار اکبر ہاشمی رفسنجانی نے کہا ہے کہ وہ انتخابات میں کامیابی کے بعد ملک میں اقتصادی خوشحالی لانے اور باہر کی دنیا سے کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کریں گے۔ انہوں نے اپنے عوام سے یہ وعدہ ٹیلی ویژن خطاب میں اس وقت کیا ہے جب ایران کے صدارتی انتخابات کے لیے دوبارہ ووٹ ڈالے جانے والے ہیں۔ پہلے مرحلے میں کسی امیدوار کو پچاس فیصد سے زائد ووٹ نہ ملنے کی وجہ سے جمعہ کو دوبارہ ووٹ ڈالے جائیں گے اور سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی کا مقابلہ تہران کے سخت گیر موقف رکھنے والے میئر محمود احمد نژار سے ہوگا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران میں یہ پہلا موقع ہے کہ صدارتی انتخابات کے لیےدوبارہ ووٹنگ ہو رہی ہے اور اس میں بھی کانٹے دار مقابلہ ہورہا ہے۔ ’ایران سٹوڈنٹ نیوز ایجنسی‘ یعنی ’اسنا‘ نے ایک عوامی سروے جاری کیا ہے جو مبصرین کی رائے کی توثیق کرتا ہے۔ ستر سالہ ہاشمی رفسنجانی نے سرکاری اداروں کو نجی شعبے کے حوالے کرکے ان میں ہر شخص کو گیارہ ہزار ڈالر کے حصص اور ہر بے روزگار کو ایک سو پینسٹھ امریکی ڈالر کے مساوی ایرانی ریال دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر مغرب سے کشیدگی ان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ مغرب کو اس بات پر قائل کیا جائے کہ ان کا جوہری پروگرام پرامن مقصد کے لیے ہے۔
تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار صادق صبا کا کہنا ہے کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ سابق صدر کے ان اعلانات سے ان کے حریف امیدوار کی مقبولیت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ محمود احمد نژار نے اپنی صدارتی انتخاب کی مہم میں بدعنوانی اور تفریق کے خلاف جنگ کرنے اور دولت کی نئے سرے سے تقسیم کے نعروں سے غریب طبقے کی خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ انہوں نے ایک روز قبل ٹیلی ویژن خطاب میں کہا تھا کہ ایران کے تیل کی بڑی دولت پر ایک خاندان کا قبضہ ہے۔ اپنے سیاسی حریف ہاشمی رفسنجانی پر انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے تیل کی صنعت سے خاصے مفادات وابستہ ہیں۔ ان کے اس الزام کو ایران کے تیل کی وزارت نے مسترد کردیا تھا۔ اس طرح کی قیاس آرائیوں کی ہاشمی رفسنجانی بھی تردید کرتے رہے ہیں لیکن ان افواہوں سے کئی ایرانیوں کا سابق صدر پر اعتماد کچھ اٹھ گیا ہے۔ ایک لحاظ سے ایران کے صدارتی انتخابات طبقات کے درمیان مقابلہ بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ متوسط طبقے کے بیشتر لبرل ہاشمی رفسنجانی کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ محمود احمد نژار ’ورکنگ کلاسز‘ کا ہیرو سمجھے جاتے ہیں۔ سخت گیر موقف کے حامی محمود احمد پر سیاسی مخالفین نے تنقید کرتے ہوئے خدشات ظاہر کیے تھے کہ وہ ’طالبان نما حکومت‘ قائم کرکے صنفی تفریق کریں گے اور خواتین کو سر سے پاؤں تک چادر پہننے پر مجبور کردیں گے۔
لیکن تہران کے سخت گیر میئر نے اپنے مخالفین کی تنقید اور خدشات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کون کیا پہنتا ہے، ایران کے اس سے کہیں بڑے مسائل بے روزگاری اور ہاؤسنگ کے ہیں۔ ایران میں چار کروڑ ستر لاکھ شہری اپنا ووٹ دینے کے اہل ہیں۔ ایران کی نصف آبادی بچیس برس سے کم عمر افراد کی ہے۔ ووٹ دینے کے لیے کم سے کم عمر کی حد پندرہ برس مقرر کی گئی ہے۔ خبر رساں ادارے ’رائٹر‘ نے بتایا ہے کہ تہران شہر میں جمعرات کو انتخابی مہم کے خاتمے سے قبل راتوں رات محمود احمد کے سینکڑوں پوسٹرز لگ گئے ہیں۔ اصلاحات پسند گروپوں نے ووٹنگ میں دھاندلی کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں ہار جانے والے ان گروپوں کے امیدواروں نے سخت گیر مسلح گروپوں پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے ایرانی عوام کو اپنے پسندیدہ امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالنے پر مجبور کیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||