 |  ہاشمی رفسنجانی کو سب سے مضبوط امیدوار قرار دیا جا رہا ہے |
ایرانی صدارتی انتخاب کیلیے پولنگ شروع ہو گئی ہے اور صدر بش نے انتخابات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان صدارتی انتخابات میں صف اول کے تین امیدواروں ہاشمی رفسنجانی، مصطفیٰ معین اور ڈاکٹر علی لاریجانی میں کڑے مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔
ان انتخابات میں ساڑھے چار کروڑ سے زائد لوگ ووٹ ڈالنے کے حقدار ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایران کی شوری نگہبان نے ان انتخابات کے لیے ایک ہزار کے قریب امیدواروں کو پہلے ہی نا اہل قرار دے چکی ہے۔ اس کے بعد سو کے قریب امیدوار باقی تھے جن میں سے جمعرات تک صدارت کے آٹھ امیدوار ان انتخابات میں حصہ لے رہے تھے جن میں اکبر ہاشمی رفسنجانی، مصطفیٰ معین، ڈاکٹر علی لاریجانی، محمود احمد نژار، مہدی کروبی، محسن محمد علی زادہ، محسن رضائی اور محمد باقر قالینباف کے نام شامل ہیں۔ جمعرات کو بتایا گیا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب کے سابق سربراہ محسن رضائی نے اپنا نام واپس لے لیا تھا۔ جس کے بعد اب سات امیدوار میدان میں ہیں۔ معین رضائی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنا نام مذہبی قیادت کی ہدایت پر واپس لیا ہے تا کہ مذہبی ووٹ تقسیم نہ ہوں۔
 |  مصطفیٰ معین |
اکبر رفسنجانی کے بعد سبکدوش ہونے والے صدر خاتمی کے معاون مصطفیٰ معین کی کامیابی کے امکانات اس صورت میں ہو سکتے ہیں کہ ووٹنگ کی شرح بہت زیادہ ہو جس کے آثار کم ہی دکھائی دیتے ہیں کیونکہ لوگوں میں وہ جوش و خروش نہیں ہے جو عام طور پر انتخابات میں دیکھنے میں آتا ہے۔تیسرے اہم امیدوار ڈاکٹر علی لاریجانی ہیں جو سابق براڈکاسٹر ہیں اور جنہیں رجعت پسندوں کا امیدوار تصور کیا جاتا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر انتحابات کے پہلے مرحلے میں کسی امیدوار نے کل ڈالے گئے ووٹوں کے اکاون فیصد سے زائد ووٹ نہ لیے تو انتخابات کا دوسرا مرحلہ بھی ہو گا جس میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو گا۔
 |  ڈاکٹر علی لاریجانی |
ادھر امریکی صدر جارج بش نے ان انتخابات پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ سینکڑوں اصلاح پسند امیدواروں کو ان انتخابات میں کھڑا نہیں ہونے دیا گیا۔ صدر بش نے کہا ہے کہ ایران میں اقتدار چند ایسے غیر منتخب افراد کے ہاتھ میں ہے جو جمہوریت کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ |