BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 June, 2005, 03:23 GMT 08:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران میں ووٹنگ: صدر بش کی تنقید
News image
ہاشمی رفسنجانی کو سب سے مضبوط امیدوار قرار دیا جا رہا ہے
ایرانی صدارتی انتخاب کیلیے پولنگ شروع ہو گئی ہے اور صدر بش نے انتخابات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ان صدارتی انتخابات میں صف اول کے تین امیدواروں ہاشمی رفسنجانی، مصطفیٰ معین اور ڈاکٹر علی لاریجانی میں کڑے مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔


ان انتخابات میں ساڑھے چار کروڑ سے زائد لوگ ووٹ ڈالنے کے حقدار ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایران کی شوری نگہبان نے ان انتخابات کے لیے ایک ہزار کے قریب امیدواروں کو پہلے ہی نا اہل قرار دے چکی ہے۔

اس کے بعد سو کے قریب امیدوار باقی تھے جن میں سے جمعرات تک صدارت کے آٹھ امیدوار ان انتخابات میں حصہ لے رہے تھے جن میں اکبر ہاشمی رفسنجانی، مصطفیٰ معین، ڈاکٹر علی لاریجانی، محمود احمد نژار، مہدی کروبی، محسن محمد علی زادہ، محسن رضائی اور محمد باقر قالینباف کے نام شامل ہیں۔

جمعرات کو بتایا گیا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب کے سابق سربراہ محسن رضائی نے اپنا نام واپس لے لیا تھا۔ جس کے بعد اب سات امیدوار میدان میں ہیں۔ معین رضائی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنا نام مذہبی قیادت کی ہدایت پر واپس لیا ہے تا کہ مذہبی ووٹ تقسیم نہ ہوں۔

مصطفیٰ معین
مصطفیٰ معین

اکبر رفسنجانی کے بعد سبکدوش ہونے والے صدر خاتمی کے معاون مصطفیٰ معین کی کامیابی کے امکانات اس صورت میں ہو سکتے ہیں کہ ووٹنگ کی شرح بہت زیادہ ہو جس کے آثار کم ہی دکھائی دیتے ہیں کیونکہ لوگوں میں وہ جوش و خروش نہیں ہے جو عام طور پر انتخابات میں دیکھنے میں آتا ہے۔

تیسرے اہم امیدوار ڈاکٹر علی لاریجانی ہیں جو سابق براڈکاسٹر ہیں اور جنہیں رجعت پسندوں کا امیدوار تصور کیا جاتا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ اگر انتحابات کے پہلے مرحلے میں کسی امیدوار نے کل ڈالے گئے ووٹوں کے اکاون فیصد سے زائد ووٹ نہ لیے تو انتخابات کا دوسرا مرحلہ بھی ہو گا جس میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو گا۔

ڈاکٹر علی لاریجانی
ڈاکٹر علی لاریجانی

ادھر امریکی صدر جارج بش نے ان انتخابات پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ سینکڑوں اصلاح پسند امیدواروں کو ان انتخابات میں کھڑا نہیں ہونے دیا گیا۔

صدر بش نے کہا ہے کہ ایران میں اقتدار چند ایسے غیر منتخب افراد کے ہاتھ میں ہے جو جمہوریت کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

66جوہری ایران
پالیمان نے پروگرام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے
ریکارڈ امیدوار
ایران میں 1010 افراد صدارت کے خواہاں
66صف اول کے امیدوار
رفسنجانی کیا ایک بااختیار صدر ہونگے؟
66ایران امریکہ دشمنی
مصدق مخالف امریکہ، فوج، غنڈے اور طوائفیں
ایران کو دھمکی
کیا ایران امریکہ کا اگلا نشانہ بنےگا؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد