BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 June, 2005, 12:17 GMT 17:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران: ایک تاریخی موڑ پر

ایرانی صدارتی انتخابات اور حزب اختلاف
سترہ جون کو ایران میں صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں۔
انیس سو ستانوے میں جب اصلاح پسند امیدوار محمد خاتمی نے ایران کے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی، تو کئی ناقدین اور حزب مخالف کی تنظیموں نے ملک کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ان کے منصوبوں کی حمایت کرنا شروع کردی۔

تاہم اب ایسا لگتا ہے کہ صدر خاتمی کے دوسرے دور حکومت کے اختتام پر یہ حمایت ختم ہو رہی ہے۔ اسلامی جمہوریہ کے تئیں وفاداری اور ملک کی طرز حکومت میں تبدیلی ایسے مدعے ہیں جنہوں نے ایران میں سیاسی تنظیموں کو منقسم کر رکھا ہے۔

ملک میں اسلامی طرز حکومت کے مخالفین کے لیے جمہوریت، انسانی حقوق، سیکولرزم اور ایک سیکولر جمہوری ملک کا قیام نہایت ہی اہم مدعے ہیں۔ تاہم ملک کے اندر اور باہر موجود حزب اختلاف کی جماعتوں میں ملک کے سیاسی نظام میں تبدیلیوں کی حد اور اصلاح کے طریقوں پر اتفاق رائے نہیں ہے۔

ایران میں حزب مخالف کا ایک بڑا گروپ اصلاحات کو فوری طور پر متعرف کروانے کی بجائے نظام کو آہستہ آہستہ تبدیل کرنے کا حامی ہے۔ اس گروپ میں طالب علم، جدید مذہبی تنظیمیں، قومی جماعتیں اور کچھ سیکولر گروپ بھی شامل ہیں۔ تاہم اس گروپ میں شامل مختلف جماعتوں میں حکومت میں موجود اصلاح پسندوں کے ساتھ روابط پر اتفاق رائے نہیں ہے۔

ایران سے باہر موجود حزب اختلاف کی جماعتوں کا بھی خیال ہے کہ تبدیلی غیر ملکی مداخلت کے بغیر، پر امن طریقے سے ہونی چاہیئے۔ ایران میں حزب اختلاف کا ایک ایسا بھی حصہ ہے جو ہر ممکن طریقے سے موجودہ نظام حکومت کو بدلنے کا حامی ہے۔

ایران میں حزب اختلاف کو درپیش مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ عام لوگوں تک اپنی بات پہنچانے کا ہے۔ ایران میں ریڈیو اور ٹیلی وژن حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔ یہاں تک کہ ریڈیو اور ٹیلی وژن پر حکومت کے اصلاح پسند ارکان کی نمائندگی بھی نہیں ہوتی۔

اصلاح پسند ایرانی اخباروں پر ایران کی قدامت پسند عدلیہ کے دباؤ کے بعد اب ایرانی اخباروں کی آزادی بھی متاثر ہوئی ہے۔

ایران سے باہر موجود ایرانی حزب اختلاف کے لیے بھی لوگوں تک اپنی بات پہنچانا مشکل ہے۔ تاہم ایران میں انٹرنیٹ کافی حد تک دستیاب ہے اور امریکہ میں مقیم کچھ ایرانی جماعتیں سیٹلائٹ ٹیلی وژن پر اپنے خیالات نشر کرتی ہیں۔

سترہ جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات ایرانی حکومت اور حزب اختلاف، دونوں کے لیے ہی بہت اہم ہیں، کیونکہ ان سے ایران کے مستقبل پر گہرا اثر ہو سکتا ہے۔

ان انتخابات کے نتائج کا ناقدین اور اصلاح پسندوں کو بے صبری سے انتظار ہے۔ دوسری طرف حکومت کو اس بات کا خدشہ ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے نہیں آئیں گے۔ حکومت چاہتی ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالیں تاکہ اسے ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جوہری توانائی کے حوالے سے بین الاقوامی دباؤ کا جواب دینے میں مدد مل سکے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66پاکستانی پاسپورٹ؟
ایک پانچ سو کا نوٹ اور ہر مشکل آسان
66میرے ننھے فرشتے۔۔۔
عراق میں بچوں کی ایک نرس کی کہانی۔۔۔
66میرا شہر
قاہرہ سے فیضہ حسن کا مراسلہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد