پانچ سو روپے کا کمال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں نقلی دستویزات کا حصول اتنا آسان ہے کہ اگر کوئی غیر ملکی بھی پاکستان کی نیشنیلٹی حاصل کرنا چاہتا ہے تو یہ کام ایک ماہ کے اندر ممکن ہے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ کون چاہے گا کہ وہ پاکستانی نیشنل بنے؟ میرا تعلق لاہور سے ہے اور میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ میں پاکستان کا ہر ادارہ گھوما ہوں، مگر یہ ضرور کہوں گا کہ لاہور میں تقریباً ہر گورمنٹ کا ادارہ گھوم چکا ہوں۔ اصل میں میری جاب کی نوعیت ایسی ہے کہ مجھے تقریباً روزانہ کوئی نہ کوئی دستاویز تیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ خواہ وہ برتھ سرٹیفیکیٹ ہو یا بیرون ملک ویزا۔ سب سے پہلے تو چلتے ہیں فساد کی جڑ یعنی برتھ سرٹیفیکیٹ، جہاں سے تمام دستاویزات کی بنیاد شروع ہوتی ہے۔ نادرا نے برتھ سرٹیفیکیٹ کمپیوٹرائزڈ اندراج کا ذمہ یونین کونسلز کو دے دیا ہے اور اب وہی برتھ سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں مجھے ایک برتھ سرٹیفیکیٹ بنوانے کا اتفاق ہوا۔ یونین کونسل کی طرف سے مجھے ایک فارم دیا گیا اور کہا گیا کہ اس میں جو اندراج کروانا ہے اس کی تفصیل درج کر دیں۔ مجھ سے کسی قسم کی تفصیل نہیں لی گئی اور حیرانی کی بات تو یہ تھی کہ تین دن بعد مجھے بغیر کسی ویری فِکیشن کے برتھ سرٹیفیکیٹ دے دیا گیا، بغیر یہ جانے کہ بچہ پیدا بھی ہوا ہے کہ نہیں۔ اسی طرح ایک دفعہ مجھے ایک خاتون کا پاسپورٹ بنوانے کی ضرورت پڑی۔ یہ تب کی بات ہے جب کمپیوٹرائزڈ پاسپورٹ شروع نہیں ہوئے تھے۔ اب جن خاتون کا پاسپورٹ بنوانا تھا، میں نے اپنے ہاتھ سے ان کا فارم پورا کیا اور بعد میں نے اپنے ہی ہاتھ کا انگوٹھا اور دستخط کیے، اور ایک ایجینٹ کو پانچ سو روپئے کے ساتھ اس درخواست فارم کو جمع کروانے بھیج دیا، کیونکہ اس وقت وہ خاتون میرے ساتھ نہیں تھیں۔ فورم کو بغیر خاتون کی شکل اور موجودگی دیکھے جمع کر لیا گیا۔ جب دو دن بعد پاسپورٹ میرے ہاتھ میں آیا تو دیکھا کہ اس پر میرے ہی دستخط اور نشان انگوٹھا موجود ہیں جو کہ اب تک استعمال کیا جا رہا ہے۔ پاسپورٹ آفس کو چھوڑئے، لاہور کے پاسپورٹ آفس کے ویزہ سیکشن کو ہی دیکھ لیجیئے۔ مجھے ایک امریکی نیشنل خاتون کا پاکستانی ویزے کی ویلِڈِٹی بڑھانے کے لئے ویزہ سیکشن جانا پڑا۔ ان کے ویزہ کی معیاد ختم ہو چکی تھی۔ انکوآئری کرنے پر ویزہ آفس نے بتایا کہ ایک سو ڈالر فیس ہوگی۔ میں نے سو ڈالر انہیں کیش دیے اور انہوں نے آنکھیں بند کر کے ان کے ویزہ کی معیاد چھ ماہ اور بڑھا دی۔ اب اتفاق سے ان خاتون کا ایک اور بچہ بھی تھا۔ ان کے ویزہ کا بھی یہی حال تھا۔ میں دوبارہ اسی ویزہ افسر کے پاس گیا۔ اچانک دل میں ایک شرارت آئی اور میں نے ان سے یہ کہا کہ ’گورمنٹ کا کون سا کام ہے جو کیش پر ہوتا ہے۔ آپ نے پچھلی دفعہ سو ڈالر بینک میں جمع کروانے کے لئے کیش لے لیے۔۔۔میں اس کیش کا ریکارڈ چاہتا ہوں۔‘ اسی پر ویزا افسر انتہائی نرم لہجے میں بولے ’بھائی اب کیا کام ہے۔‘ تو اسی طرح کے ایک اور ویزے کی معیاد مجھے پانچ سو روپے بڑھا کر دے دی گئی۔ ساتھ ہی لاہور میں غیر ملکی قونصلیٹس کا بھی کوئی حال نہیں۔ فار ایسٹ کے ممالک کا ویزہ تو انتہائی بوگس ڈاکیومینٹس مہیا کرنے پر بھی مل جاتا ہے، جس میں نقلی بینک سٹیٹمینٹ سے لے کر نقلی جاب لیٹرز تک شامل ہیں۔ ہاں اگر آپ قونصلیٹ کو کافی بزنس دے رہے ہیں تو بعض اوقات ایک آدھ ضروری ڈاکیومینٹ کے بغیر ہی ویزا جاری کر دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ باقی کاموں میں بھی کسی قسم کی مشکل نہیں۔ نوٹری پبلک والے بغیر اصل ڈاکیومینٹ دیکھے نقل کی تصدیق کر دیتے ہیں۔ عدالتوں کے میجسٹریٹس تک بغیر دیکھے ایک ادنا سی فیس میں تصدیق کر دیتے ہیں۔ کبھی کبھی یہ سب سوچتا ہوں کہ یہ شہر ہے یا جنگل؟ مگر پھر کوئی میرے کان میں آکر کہتا ہے کہ تم ایک ایسی جگہ بھیجے گئے ہو جہاں ہر کام کتنا آسان ہے۔ یہی سن کر دل کو تسلی ہوتی ہے، کہ میں واقعی کسی عظیم ملک کا ایک حصہ ہوں۔ اسی لئے جیب میں ہر وقت پانچ سو کا نوٹ لیے پھرتا ہوں، تاکہ کوئی مشکل نہ ہو۔۔۔ ہمارے قاری ایم عمر سلیم کے مضمون پر ردعمل محمد جمیل، دبئی، متحدہ عرب امارات: حمید میمن، ملبورن، آسٹریلیا: محمد علی، پاکستان: رضوان شیخ، سپین: اسجد خان، سعودی عرب: |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||