BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 June, 2005, 16:12 GMT 21:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پانچ سو روپے کا کمال

News image
’پاکستان میں نقلی دستویزات کا حصول بہت آسان ہے۔‘
پاکستان میں نقلی دستویزات کا حصول اتنا آسان ہے کہ اگر کوئی غیر ملکی بھی پاکستان کی نیشنیلٹی حاصل کرنا چاہتا ہے تو یہ کام ایک ماہ کے اندر ممکن ہے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ کون چاہے گا کہ وہ پاکستانی نیشنل بنے؟

میرا تعلق لاہور سے ہے اور میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ میں پاکستان کا ہر ادارہ گھوما ہوں، مگر یہ ضرور کہوں گا کہ لاہور میں تقریباً ہر گورمنٹ کا ادارہ گھوم چکا ہوں۔ اصل میں میری جاب کی نوعیت ایسی ہے کہ مجھے تقریباً روزانہ کوئی نہ کوئی دستاویز تیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ خواہ وہ برتھ سرٹیفیکیٹ ہو یا بیرون ملک ویزا۔

سب سے پہلے تو چلتے ہیں فساد کی جڑ یعنی برتھ سرٹیفیکیٹ، جہاں سے تمام دستاویزات کی بنیاد شروع ہوتی ہے۔ نادرا نے برتھ سرٹیفیکیٹ کمپیوٹرائزڈ اندراج کا ذمہ یونین کونسلز کو دے دیا ہے اور اب وہی برتھ سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں مجھے ایک برتھ سرٹیفیکیٹ بنوانے کا اتفاق ہوا۔

یونین کونسل کی طرف سے مجھے ایک فارم دیا گیا اور کہا گیا کہ اس میں جو اندراج کروانا ہے اس کی تفصیل درج کر دیں۔ مجھ سے کسی قسم کی تفصیل نہیں لی گئی اور حیرانی کی بات تو یہ تھی کہ تین دن بعد مجھے بغیر کسی ویری فِکیشن کے برتھ سرٹیفیکیٹ دے دیا گیا، بغیر یہ جانے کہ بچہ پیدا بھی ہوا ہے کہ نہیں۔

اسی طرح ایک دفعہ مجھے ایک خاتون کا پاسپورٹ بنوانے کی ضرورت پڑی۔ یہ تب کی بات ہے جب کمپیوٹرائزڈ پاسپورٹ شروع نہیں ہوئے تھے۔ اب جن خاتون کا پاسپورٹ بنوانا تھا، میں نے اپنے ہاتھ سے ان کا فارم پورا کیا اور بعد میں نے اپنے ہی ہاتھ کا انگوٹھا اور دستخط کیے، اور ایک ایجینٹ کو پانچ سو روپئے کے ساتھ اس درخواست فارم کو جمع کروانے بھیج دیا، کیونکہ اس وقت وہ خاتون میرے ساتھ نہیں تھیں۔ فورم کو بغیر خاتون کی شکل اور موجودگی دیکھے جمع کر لیا گیا۔ جب دو دن بعد پاسپورٹ میرے ہاتھ میں آیا تو دیکھا کہ اس پر میرے ہی دستخط اور نشان انگوٹھا موجود ہیں جو کہ اب تک استعمال کیا جا رہا ہے۔

پاسپورٹ آفس کو چھوڑئے، لاہور کے پاسپورٹ آفس کے ویزہ سیکشن کو ہی دیکھ لیجیئے۔ مجھے ایک امریکی نیشنل خاتون کا پاکستانی ویزے کی ویلِڈِٹی بڑھانے کے لئے ویزہ سیکشن جانا پڑا۔ ان کے ویزہ کی معیاد ختم ہو چکی تھی۔ انکوآئری کرنے پر ویزہ آفس نے بتایا کہ ایک سو ڈالر فیس ہوگی۔ میں نے سو ڈالر انہیں کیش دیے اور انہوں نے آنکھیں بند کر کے ان کے ویزہ کی معیاد چھ ماہ اور بڑھا دی۔

اب اتفاق سے ان خاتون کا ایک اور بچہ بھی تھا۔ ان کے ویزہ کا بھی یہی حال تھا۔ میں دوبارہ اسی ویزہ افسر کے پاس گیا۔ اچانک دل میں ایک شرارت آئی اور میں نے ان سے یہ کہا کہ ’گورمنٹ کا کون سا کام ہے جو کیش پر ہوتا ہے۔ آپ نے پچھلی دفعہ سو ڈالر بینک میں جمع کروانے کے لئے کیش لے لیے۔۔۔میں اس کیش کا ریکارڈ چاہتا ہوں۔‘ اسی پر ویزا افسر انتہائی نرم لہجے میں بولے ’بھائی اب کیا کام ہے۔‘ تو اسی طرح کے ایک اور ویزے کی معیاد مجھے پانچ سو روپے بڑھا کر دے دی گئی۔

ساتھ ہی لاہور میں غیر ملکی قونصلیٹس کا بھی کوئی حال نہیں۔ فار ایسٹ کے ممالک کا ویزہ تو انتہائی بوگس ڈاکیومینٹس مہیا کرنے پر بھی مل جاتا ہے، جس میں نقلی بینک سٹیٹمینٹ سے لے کر نقلی جاب لیٹرز تک شامل ہیں۔ ہاں اگر آپ قونصلیٹ کو کافی بزنس دے رہے ہیں تو بعض اوقات ایک آدھ ضروری ڈاکیومینٹ کے بغیر ہی ویزا جاری کر دیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ باقی کاموں میں بھی کسی قسم کی مشکل نہیں۔ نوٹری پبلک والے بغیر اصل ڈاکیومینٹ دیکھے نقل کی تصدیق کر دیتے ہیں۔ عدالتوں کے میجسٹریٹس تک بغیر دیکھے ایک ادنا سی فیس میں تصدیق کر دیتے ہیں۔

کبھی کبھی یہ سب سوچتا ہوں کہ یہ شہر ہے یا جنگل؟ مگر پھر کوئی میرے کان میں آکر کہتا ہے کہ تم ایک ایسی جگہ بھیجے گئے ہو جہاں ہر کام کتنا آسان ہے۔ یہی سن کر دل کو تسلی ہوتی ہے، کہ میں واقعی کسی عظیم ملک کا ایک حصہ ہوں۔ اسی لئے جیب میں ہر وقت پانچ سو کا نوٹ لیے پھرتا ہوں، تاکہ کوئی مشکل نہ ہو۔۔۔



ہمارے قاری ایم عمر سلیم کے مضمون پر ردعمل

محمد جمیل، دبئی، متحدہ عرب امارات:
جو کچھ بھی لکھا ہے بالکل لاھیک لکھا ہے۔ آپ اصل ڈاکیومینٹس لے کر جائیں تو شاید آپ کی قسمت ہے کہ کوئی نیک آدمی بیٹھا ہو تو بن جائے ورنہ جو حرام کھانے میں مزہ ہے وہ حلال میں کہاں؟

حمید میمن، ملبورن، آسٹریلیا:
میری رائے یہ ہے کہ پاکستان میں ہر دو نمبری کام آسانی سے ہو سکتا ہے۔ میں نے نادرا میں جاب کی ہے۔ میں اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ کتنے آرام سے دو نمبری آئی ڈی بن سکتا ہے۔ میرے فرینڈ کے پاس نادرا کے دو دو آئی ڈی کارڈس ہیں۔ سو اللہ ہی حافظ ہےپاکستان کا۔

محمد علی، پاکستان:
کچھ دن پہلے کی بات ہے ہماری شاپ سے سائکل چوری ہو گیا۔ اس کی رپورٹ پولیس سٹیشن پر درج کروانے گئے تو ادھر کے انچارج نے کہا کہ رپورٹ درج کرنے کے پیسے دو تو میں پریشان ہو گیا۔ اس صاحب سے پوچھا کہ کس چیز کے پیسے دوں؟ وہ بولا کہ آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ وہ بندہ چور ہے؟ میں کہا صاحب ہم نے اس بندے سے سائکل برامد کی ہے۔ اس نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانوں گا۔ ہم نے پولیس والے سے معافی مانگی اور روانہ ہو گئے، اور اس چور کو پولیس والے نے خرچہ لے کر چھوڑ دیا۔ یہ ہے ہمارا قانون۔

رضوان شیخ، سپین:
بی بی سی والے اس طرح کے لیٹر چھاپ کر ہمارے ملک کو بدنام کرتے ہیں۔ جتنا آسان انہوں نے لکھا ہے، اتنا آسان نہیں پاسپورٹ بنوانا۔

اسجد خان، سعودی عرب:
پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہاں اشیا کی قیمتیں تو ترقی یافتہ ممالک جیسی ہیں لیکن آمدنی ایک غریب ملک کی۔ میں بدعنوانی کو جسٹیفائی نہیں کر رہا مگر اس کا کافی اثر پڑتا ہے۔ پاکستان میں ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے میرا بجلی کا بِل میری تنخواہ سے پچاس فیصد زیادہ تھا۔ اگر آپ کے پاس آمدنی کے دوسرے ذرائع نہ ہوں تو گزارا مشکل ہو جاتا ہے، اور لوگ رشوت جیسی چیزوں پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ جو یہ سب نہیں کر سکتے ان کے لیے ملک چھوڑنا ہی باقی رہ جاتا ہے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66ڈائری: ماہرین کاویزہ
برطانیہ میں ایک پاکستانی تارک وطن کی روداد
66امریکہ میں ہم جنس
’فری امریکہ‘ پر ذیشان عثمانی کے تاثرات
66’صدام ہی بہتر تھا‘
ایک عراقی خاتون کی ڈائری۔۔۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد