ایران: اصلاح پسند امیدوار مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران میں سرکاری ٹیلی وثن نے اعلان کیا ہے کہ اگلے ماہ کے صدارتی الیکشن کے لئے انتخابی عمل کی نظرداری کرنے والے ادارے مجلسِ بُزرگان نے ایک ہزار امیدواروں میں سے صرف چھہ کی نامزدگی کی اجازت دے دی ہے ۔ تمام خواتین اور بیشتراصلاح پسند امیدواروں کے کاغزات نامزدگی مسترد کر دئے گئے ہیں۔ ایران میں صدارتی انتخابات سترہ جون کو ہونے والے ہیں۔ ایران کے سرکاری ٹیلی وثن نے جِن چھہ امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا اُن میں کوئی خاتون امیدوار شامل نہیں جبکہ ایران میں اصلاحات کی حامی زیادہ تر نامور شخصیات کو بھی مجلسِ بُزرگان نے نااہل قرار دیدیا ہے۔ انِ میں تعلیم کے سابق وزیر مُصطفی مُعین بھی شامل ہیں۔
ملک کی اصلاحات کی حامی سب سے بڑی جماعت نے پہلے ہی دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر اسکے امیدوار کو الیکشن سے باہر رکھا تو وہ انتخابات کا بائیکاٹ کریگی۔ رائے عامہ کے اندازوں کے مطابق سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کو اسوقت سب سے زیادہ حمایت حاصل ہے۔ نظرداری کرنے والے ادارے مجلسِ بُزرگان نے گزشتہ برس بھی تقریباً ڈھائی ہزار امیدواروں کی نامزدگی مسترد کر دی تھی۔ یہ کونسل امیدوراوں کی اہلیت کا تعین اخلاقی اور اسلامی اقدار کے تناظر میں کرتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||