ایران: امریکہ کا اگلا نشانہ؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق پر حملے کے بعد اب ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کی اگلی مہم ایران کے متعلق ہوگی۔ امریکہ مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ جوہری توانائی کی پیش رفت روکنے کے بارے میں معاہدے توڑنے کے لیے ایران کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے حوالے کر دیا جائے۔ امریکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ 13 ستمبر کو ہونے والی جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے، کی ملاقات میں ایران کے خلاف سخت کارووائی کی جائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عراق کے بعد دنیا ’وسیع تباہی کے ہتھیاروں‘ سے خطرے کی بات کے بارے میں امریکہ پر یقین کرےگی؟ اور اگر اسے دنیا کی حمایت حاصل نہیں ہوئی تو امریکہ کس حد تک جائے گا؟ امریکی صدر جارج بش نے ایران کے بارے میں رائے دیتے ہوئے 2002 میں اسے عراق اور جنوبی کوریا کے ساتھ ’ایکسس آف ایول‘ یعنی بدی کے محور کا حصہ قرار دیا تھا۔ عالمی امور کا مطالعہ کرنے والے ادارے کارنیگی اینڈومینٹ کے جان وولف ستھال ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے ماہر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پچھلے ایک سال میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایران نے دو دہائیوں تک اپنے جوہری توانائی کے پروگرام کو خفیہ رکھا تھا۔ تاہم ان کا خیال ہے کہ ایران پر اس وقت توجہ دینے کا مقصد امریکی صدارتی انتخابات سے پہلے عراق سے لوگوں کی توجہ ہٹانا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے مگر یہ اب تک ثابت نہیں ہو سکا ہے۔ اب تک یہ بات صاف نہیں ہوئی ہے کہ ایران کے جوہری توانائی پروگرام کا مقصد ہتھیار بنانا ہے یا جوہری توانائی کا پر امن استعمال کرنا۔ مگر امریکہ کو اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایران کا مقصد در اصل ہتھیار بنانا ہی ہے۔ امریکہ کی ایران میں دلچسپی کی ایک وجہ عراق میں امریکی موجودگی بھی ہے۔ عراق میں امریکی کارووائی کی وجہ سے ایران پر حملہ کرنا امریکہ کے لیے مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔ کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس معاملے میں اسرائیل امریکہ کی مدد کر سکتا ہے۔ کارنیگی اینڈومینٹ کے مسٹر وولف ستھال کا کہنا ہے کہ ایران کو دی جانے والی امریکی دھمکی کو صدر بش کی انتخابی مہم کے حصہ کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||