BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 June, 2005, 11:05 GMT 16:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رفسنجانی کو سخت مقابلے کا سامنا
ہاشمی رفسنجانی
ہاشمی رفسنجانی نے اپنا حق رائے دہی استعمال کر لیا ہے
ایران میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ووٹنگ شروع ہو گئی ہے اور ملک کے اعلی ترین رہنما آیت اللہ علی خامنئی ان چند افراد میں شامل ہیں جنہوں نے پولنگ کی ابتداء ہی میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

انیس سو اناسی کے اسلامی انقلاب کے بعد سے اب تک ہونے والے صدارتی انتخابات میں اتنا شدید مقابلہ دیکھنے میں نہیں آیا جتنا کہ جمعہ کو ہونے والے انتخابی معرکے میں ہورہا ہے۔

ان انتخابات میں سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی کو اصلاح پسند اور انتہا پسند امیدواروں کی طرف سے شدید مقابلے کا سامنا ہے اور خیال کیا جارہا ہے کہ جمعہ کو ہونے والی پولنگ میں وہ مطلوبہ ووٹ حاصل نہ کر سکیں اور صدارتی انتخابات کا دوسرا دور جلد ہی کرایا جائے گا۔

بی بی سی کے نامہ نگار نے تہران سے اطلاع دی ہے کہ ان انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا تناسب خصوصی توجہ کا مرکز رہے گا۔ اگر ان انتخابات میں زیادہ لوگ اپنا حقِ رائے دہی استعمال نہیں کرتے تو اسے ایران کے موجودہ نظام پر عوام کے عدم اعتماد کا ایک اظہار تصور کیا جائے گا۔

نوجوانوں کا طبقہ ایران کی سیاست سے لا تعلق نظر آتا ہے جس کی ایک وجہ گزشتہ آٹھ سال کی محمد خاتمی کی اصلاح پسند حکومت کی کارکردگی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ محمد خاتمی نے موجودہ نظام میں اصلاحات کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن ملک کی قدامت پسند قیادت کی طرف سے مخالفت کی وجہ سے وہ اصلاحات کے عمل کو آگے نہیں بڑھا سکے۔

 عوامی رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق کوئی بھی امیدوار پچاس فیصد ووٹ حاصل نہیں کر پائے گا جو کہ صدراتی انتخابات میں جیتنے کے لیےضروری ہے۔

ایران میں اصل اقتدار اور اختیارات غیر منتخب مذہبی رہنماؤں پر مشتمل شوریٰ نگہبان کو حاصل ہے جس کے اعلی ترین رہنما آیت اللہ علی خامنئی ہیں۔

حکام کا خیال ہے کہ جمعہ کو ہونے والے انتخابات میں ووٹنگ کا زیادہ تناسب رہے گا جو ایران کے سیاسی نظام پر تنقید کرنے والےمغربی ناقدین کو بھی خاموش کر دے گا۔

ایران میں چار کروڑ ستر لاکھ لوگ ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ جمعے کے انتخابات میں سات امیدوار صدارتی دوڑ میں شامل ہیں۔ اس سے قبل ایک ہزار امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اپنے کاغذات جمع کرائے تھے لیکن ملک کی مذہبی قیادت نے صرف سات امیدواروں کے کاعذاتِ نامزدگی منظور کیے۔

ان انتخابات میں ہاشمی رفسنجانی کو ایک مضبوط امیدوار قرار دیا جارہا ہے۔ ہاشمی رفسنجانی ماضی میں بھی صدر رہے ہیں اور ان کے ملک کی مذہبی قیادت سے بھی قریبی روابط ہیں۔ انہوں نے ان انتخابات میں مغربی ممالک اور امریکہ سے بہتر تعلقات قائم کرنے کی بات کی ہے۔

تاہم ان کو ایران کے سابق پولیس چیف محمد باقر قلیباف کی جو کہ ایک سخت گیر اور قدامت پسند امیدوار ہیں اور مصطفی معین جو کہ ایک اصلاح پسند امیدوار ہیں طرف سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

عوامی رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق کوئی بھی امیدوار پچاس فیصد ووٹ حاصل نہیں کر پائے گا جو کہ صدراتی انتخابات میں جیتنے کے لیےضروری ہے۔ اس صورت میں پہلے دو امیدواروں کے درمیان پولنگ کا دوسرا دورہ کرایا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد