 |  ہاشمی رفسنجانی کو سب سے مضبوط امیروار قرار دیا جا رہا ہے |
ایران میں ہی صدارتی انتخابات کی مہم ختم ہو چکی ہے اور صدر کے انتخابات کے لیے پولنگ جمعہ کو ہوگی۔ ایران کے اس اعتراف کے بعد کہ ایران نے اپنے ایٹمی کے عالمی ادارے کو اپنے ایٹمی پروگرام کے بارے میں حقائق سے آگاہ نہیں کیا تھا جوہری پروگرام اندرون ملک جمعہ کو ہونے والے صدارتی انتخابات کا بھی اہم موضوع بن گیا ہے۔
اس حوالے سے قوم پرست جذبات عروج پر ہیں۔ ایران میں بدھ تک آٹھ امیدوار میدان میں تھے لیکن پاسدارانِ انقلاب کے سابق سربراہ معین رضائی نے اپنا نام واپس لے لیا تھا۔ جس کے بعد اب سات امیدوار میدان میں ہیں۔ معین رضائی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنا نام مذہبی قیادت کی ہدایت پر واپس لیا ہے تا کہ مذہبی ووٹ تقسیم نہ ہوں۔ صدارتی انتخابات میں سابق صدر ہاشمی رفسنجانی کو سب سے مضبوط امیروار قرار دیا جا رہا ہے لیکن ان کے بارے میں بھی یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی کے وہ پہلے ہی مرحلے میں پچاس فی صد سے زائد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ وہ اس بسارے میں کیا کہتے ہیں کہ امریکہ ایران کو دہشتگردی کی اعانت کرنے والے ممالک میں شامل کرتا ہے ؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ’اصل میں امریکہ خود ایک ایسا ملک ہے جو حقوق انسانی کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے‘۔ |