BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
احمدی نژاد: محنت کش لوہار کے سپوت
احمدی نژاد
احمدی نژاد انتہائی سادہ زندگی گزارتے ہیں
محمود احمدی نژاد کو تین سال قبل جب تہران کا میئر نامزد کیا گیا تو بہت کم لوگ ان کے نام سے واقف تھے حتیٰ کہ کہ جب انہوں نے اس سال صدارت کا انتخاب لڑنے کا اعلان کیا تب بھی وہ ایران کی قومی سیاست میں کوئی جانا مانا نام نہیں تھے۔

لیکن صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں انہوں نے سابق صدر ہاشمی رفسنجانی کے بعد سب سے زیادہ ووٹ لے کر مبصرین کو حیران کر دیا اور یوں دوسرے مرحلے میں وہ ہاشمی رفسنجانی کے مدمقابل آ کھڑے ہوئے۔

بی بی سی کے ایرانی امور کی ماہر صادق صبا کے مطابق محمود احمدی نژاد نے اپنی انتخابی مہم پر کوئی پیسہ خرچ نہیں کیا۔ ان انتخابات میں انہیں قدامت پرست حلقوں کی زبردست حمایت حاصل تھی اور ان حلقوں نے مساجد کے ذریعے ان کی مہم چلائی۔

محمود احمدی نژاد کو جو کہ ماضی میں پاسداران انقلاب کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، جب تہران کا میئر نامزد کیا گیا تو انہوں نے اپنے پیشرو اصلاح پسند میئر کی طرف سے کی جانے والی بہت سے تبدیلیوں کو ختم کر دیا۔

محمود احمدی نژاد نے شہر میں مغربی طرز کے ’فاسٹ فوڈ‘ ریستوران ختم کر دیے اور بلدیہ کے مرد ملازمین کے لیے لمبے بازوؤں والی قمیضیں پہننے اور داڑھیاں رکھنے کے احکامات جاری کیے۔

ایران کے اصلاح پسند صدر محمد خاتمی نے جن کے عہدے کی مدت ختم ہو رہی ہے احمدی نژاد کے کابینہ کے اجلاسوں میں شرکت کرنے پر پابندی لگا دی تھی۔ عام حالات میں شہر کا میئر کابینہ کے اجلاسوں میں شرکت کرتا ہے۔

احمدی نژاد نے ایک اشتہاری مہم پر بھی پابندی لگا دی تھی جس میں فٹ بال کے برطانوی کھلاڑی ڈیوڈ بیکھم کو دکھایا گیا تھا۔ انیس سو اناسی کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران میں کسی بھی اشتہاری مہم میں مغرب سے تعلق رکھنے والی کسی شخصیت کو نہیں دکھایا جا سکتا۔

محمدو احمدی نژاد سادہ زندگی گزارنے اور بدعنوانی کے خلاف اقدامات کرنے کی وجہ سے مشہور ہیں۔ وہ ملک کے جوہری پروگرام کے بھی حق میں ہیں جس کی وجہ سے امریکہ اور مغربی ممالک میں بہت تشویش پائی جاتی ہے۔

محمود احمدی نژاد دارالحکومت تہران کے میئر ہونے کے باوجود ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہتے ہیں اور میئر کی سرکاری رہائش گاہ استعمال نہیں کرتے۔ وہ سرکاری گاڑی بھی استعمال نہیں کرتے۔

ان کی اپنی ایک ویب سائٹ ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ امریکہ اور مغرب ایران کو آسانی سے ترقی نہیں کرنے دیں گے ’لیکن ہم ان کی مرضی کے آگے ہتھیار نہیں ڈال سکتے۔‘

وہ امریکہ سے تعلقات استوار کرنے کے بارے میں بہت محتاط ہیں۔

انہیں ایرانی پارلیمان یا مجلس میں نوجوانوں کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے عراق میں بھی خفیہ کارروائیوں میں حصہ لیا ہے۔ وہ تہران کے قریب گامسر میں ایک لوہار کے گھر پیدا ہوئے تھے۔

انہوں نے تہران یونیورسٹی سے ٹریفک اور ٹرانسپورٹ میں ڈاکٹریٹ کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد