 |  محمود احمدی نژاد کو ایک سخت گیر رہنما تصور کیا جاتا ہے |
ایران کے صدارتی انتخابات کے حتمی نتائج کے مطابق تہران کے مئیر اور سخت گیر رہنما محمود احمدی نژاد نے تاریخی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ دوسرے مرحلے میں احمدی نژاد نے باسٹھ فیصد جب کے ان کے مد مقابل سابق صدر ہاشمی رفسنجانی نے چھتیس فیصد ووٹ حاصل کیے۔ انتخابات جیتنے کے بعد محمود احمدی نژاد نے انقلابِ ایران کی اسلامی اقدار اور ایران کو تیل سے حاصل ہونے والی دولت کی منصفانہ تقسیم پر زور دیا۔ اصلاح پسندوں کو خطرہ ہے کہ احمدی نژاد کے اقتدار میں آنے سے بہت سی اصلاحات کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ دوسرے مرحلے کی پولنگ میں ووٹنگ کا تناسب سینتالیس فیصد رہا جب کہ پہلے مرحلے میں تریسٹھ فیصد ووٹروں نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا تھا۔  |  احمدی نژاد نے باسٹھ فیصد ووٹ حاصل کیے |
ایران کے غریب صوبوں میں احمدی نژاد کے حق میں بھاری تعداد میں ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ احمدی نژاد نے ایران کے پسے ہوئے اور معاشی طور پر پسماندہ طبقوں کی معاشی ترقی کے لیے اقدامات کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے ملک سے بدعنوانیوں اور کرپشن کو ختم کرنے اور زوال پذیر مغربیت سے بھی نجات دلانے کے وعدے کیے تاہم ان کے مدمقابل ہاشمی رفسنجانی اصلاحات اور مغربی ممالک اور امریکہ سے تعلقات بہتر کرنے کی بات کرتے رہے۔ ایران میں صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں کوئی امیدوار مقررہ پچاس فیصد ووٹ لینے میں ناکام رہا تھا جس کے بعد پہلے دو امیدواروں کے درمیان جمعہ کو ووٹنگ ہوئی۔ ایران کی انتخابی تاریخ میں صدارتی الیکشن میں کبھی اتنا جوش وخروش دیکھنے میں نہیں آیا اور صدارت کا انتخابات لڑنے والوں کے درمیان اتنا شدید معرکہ نہیں ہوا۔ |