BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 June, 2005, 23:28 GMT 04:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخابات کا دوسرا مرحلہ جمعہ کو
ایران میں انتخابات
’ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد سب سے سخت انتخابی مقابلہ‘
ایران میں انتخابات کی نگرانی کرنے والی شوریٰ نگہبان نے اعلان کیا ہے کہ صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں کوئی امیدوار واضح کامیابی حاصل نہیں کر سکا اور اب ملک کے صدر کا فیصلہ جمعہ کو انتخابات کےدوسرے دور میں ہوگا۔

نصف سے زیادہ ووٹوں کی گنتی کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ دوسرے دور میں حصہ لینے والے ایک امیدوار سابق صدر ہاشمی رفسنجانی ہوں گے اور دوسرے مہدی کروبی یا تہران کے میئر محمود احمد نژار۔ انتخابات سے پہلے توقع کی جا رہی تھی کہ مقابلہ علی اکبر ہاشمی رفسنجانی، پولیس کے سابق سربراہ محمد باقر قلیباف اور مصطفیٰ معین کے درمیان ہوگا۔

ایران میں چار کروڑ ستر لاکھ رجسرڈ ووٹر ہیں۔لوگوں کی بڑی تعداد نے ووٹ ڈالے اور ووٹنگ کی شرح اچھی رہی۔

جمعہ کے روز پولنگ کے وقت کو تین بار بڑھایا گیا اور یہ طے شدہ وقت کے چار گھنٹے بعد رات گیارہ بجے ختم ہوئی۔ ایران کی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ ووٹنگ کی شرح اچھی تھی۔

بی بی سی کی نامہ نگار فرانسس ہیریسن کا کہنا ہے کہ ایران کے اسلامی نظام کے لیے جس کو امریکہ کی طرف سے غیر جمہوری ہونے کی تنقید کا سامنا تھا ووٹنگ کی زیادہ شرح اہمیت رکھتی تھی۔

نامہ نگار نے کہا کہ نظام کے سقم اپنی جگہ لیکن ایرانی ووٹروں نے اپنی رائے کے اظہار کے اس موقع کا فائدہ اٹھایا ہے۔

ایرانی انتظامیہ کے مخالفین اور طالب علم تنظیموں نے خواتین پر انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی کی وجہ سے بائیکاٹ کی اپیل کی تھی۔

ایران میں سات صدارتی امیدوار ہیں۔ تقریباً ایک ہزار افراد کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے تھے۔

ہاشمی رفسنجانی مذہبی اشرافیہ کے قریب سمجھے جاتے ہیں لیکن انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران امریکہ سمیت مغربی ممالک سے بہتر تعلقات کا پیغام دیا۔

نوجوانوں کا طبقہ ایران کی سیاست سے لا تعلق نظر آتا ہے جس کی ایک وجہ گزشتہ آٹھ سال کی محمد خاتمی کی اصلاح پسند حکومت کی کارکردگی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ محمد خاتمی نے موجودہ نظام میں اصلاحات کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن ملک کی قدامت پسند قیادت کی طرف سے مخالفت کی وجہ سے وہ اصلاحات کے عمل کو آگے نہیں بڑھا سکے۔

ایران میں اصل اقتدار اور اختیارات غیر منتخب مذہبی رہنماؤں پر مشتمل شوریٰ نگہبان کو حاصل ہے جس کے اعلی ترین رہنما آیت اللہ علی خامنئی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد