ایران میں کیا اور کب ہوا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
1907۔ ایک ایسا آئین بنایا گیا جس کے تحت گزشتہ پانچ صدیوں سے برسرِ اقتدار شاہی خاندانوں کے اختیارات میں کمی کی گئی۔ 1921۔ 22 فروری۔ فوجی کمانڈر رضا پہلوی نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ 1923۔ رضا خان وزیرِ اعظم بن گئے۔ 1925۔ 12 دسمبر۔ پارلیمان نے رضا شاہ پہلوی کو ایران کا بادشاہ بنا دیا۔ 1935۔ فارس کے نام سے جانے والے ملک کو باقاعدہ طور پر ایران کا نام دے دیا گیا۔ 1941۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد شاہ کو اقتدار سے ہٹا کر اس کے بیٹے محمد رضا شاہ کو بادشاہ بنا دیا گیا۔ 1950۔ علی رضمارا وزیرِ اعظم بنے اور نو ماہ بعد ہی قتل کر دیے گئے۔ ان کے بعد محمد مصدق وزیرِ اعظم بنا دیے گئے۔ 1951۔ پارلیمان نے تیل کی صنعت کو قومیا لیا۔ شاہ اور مصدق کے درمیان اقتدار کی جنگ شروع ہو گئی۔ 1953۔ ایران کے تیل میں دلچسپی رکھنے والی مغربی طاقتوں کی مدد سے شاہ نے ایک جنرل فزلولہ زاہدی کے فوجی انقلاب کے ذریعے مصدق کی حکومت کا خاتمہ کیا۔
1963۔ 26 جنوری۔ شاہ نے ایران کو جدید اور مغربی بنانے کی مہم شروع کی۔ انہوں نے ’سفید انقلاب‘ نامی پروگرام شروع کیا جس کا مقصد معاشرتی اور اقتصادی اصلاحات کرنا تھا۔ 1960 کے آخر میں حزبِ مخالف نے شاہ کی پالیسیوں کی مخالفت کی اور شاہ کو زیادہ انحصار خفیہ پولیس پر کرنا پڑا۔ 1978۔ ستمبر۔ شاہ کی پالیسیوں کی وجہ سے مذہبی جماعتیں ان سے دور ہوتی چلی گئیں۔ اور ان کے آمرانہ رویہ کے خلاف فسادات، ہڑتالیں، اور مظاہرے شروع ہو گئے۔ بعد میں مارشل لاء لگا دیا گیا۔ 1979۔ 16 جنوری۔ ملک میں حالات ابتر ہوتے گئے اور شاہ اور ان کے خاندان کو ملک سے فرار ہونا پڑا۔ 1979۔ 1 فروری۔ آیت اللہ خمینی چودہ سال کی ملک بدری اور عراق اور فرانس میں رہنے کے بعد ملک واپس آ گئے۔ 1979۔ 1 اپریل۔ ایران کو ایک ریفرنڈم کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران بنا دیا گیا۔
1979۔ 4 نومبر۔ اسلامی انتہا پسندوں نے تہران میں امریکی سفارتخانے پر قبضہ کر کے 52 امریکیوں کو یرغمال بنا لیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ شاہ کو ایران کے حوالے کیا جائے جو کہ امریکہ میں زیرِ علاج تھے۔ 1980۔ 25 جنوری۔ ابوالحسن بنی صدر اسلامی جمہوریہ کے پہلے صدر بنے۔ 1980۔ 27 جولائی۔ شاہ کینسر کی وجہ سے مصر میں انتقال کر گئے۔ 1980۔ 22 ستمبر۔ عراق نے شط العرب کے تنازعے کی وجہ سے ایران پر حملہ کر دیا۔ یہاں سے آٹھ سال لمبی جنگ کا آغاز ہوا۔ 1981۔ چار سو چوالیس دن سفارتخانے میں یرغمال رہنے کے بعد امریکی رہا کیے گئے۔ 1981۔ 22 جون۔ بنی صدر کو برخاست کر دیا گیا۔ بعد میں وہ فرانس چلے گئے۔ 1985۔ امریکہ نے لبنان میں یرغمالیوں کو رہا کروانے کے لیے اسلحہ مہیا کرنے کا ایک خفیہ معاہدہ کیا جو بعد میں ایران کونٹرا افیئر کے نام سے مشہور ہوا۔ 1988۔ امریکی بحری بیڑے یو ایس ایس ونسینز نے ’غلطی‘ سے ایران کے مسافر طیارے کو میزائل مار کر تباہ کر دیا۔ ایران ایئر کے طیارے میں عملے کے علاوہ 290 مسافر سوار تھے۔ 1988۔ 20 جولائی۔ ایران اور عراق میں جینیوا کے مذاکرات کے بعد جنگ بندی ہو گئی۔ 1989۔ 14 جولائی۔ آیت اللہ خمینی نے برطانوی مصنف سلمان رشدی کے خلاف ان کی کتاب ’سٹینک ورسس‘ کی وجہ موت کا فتویٰ سنایا۔
1989۔ 3 جون۔ آیت اللہ خمینی انتقال کر گئے۔ چار جون کو صدر خامنئی کو ایران کا سپریم لیڈر بنا دیا گیا۔ 1989۔ 17 اگست۔ علی اکبر رفسنجانی ایران کے نئے صدر بنے۔ 1989۔ 3 نومبر۔ امریکی نے ایران کے منجمد کیے ہوئے 567 ملین اثاثے واپس کیے۔ 1990۔ 21 جون۔ ایران میں تباہ کن زلزلے کی وجہ سے 40,000 افراد ہلاک ہو گئے۔ 1990۔ پہلی خلیجی جنگ میں ایران غیر جانبدار رہا اور کویت پر عراق کے حملے اور خطے میں زیادہ دیر تک امریکیوں کی موجودگی دونوں کی مذمت کی۔ 1990۔ 11 ستمبر۔ عراق اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہوئے۔ 1995۔ امریکہ نے ’دہشت گردی‘، اور جوہری اسلحہ کے حصول کے الزام میں ایران پر تیل اور تجارت کی پابندیاں لگا دی تھیں۔ 1997۔ 23 مئی۔ محمد خاتمی ایران کے صدارتی انتخاب بھاری اکثریت سے جیت گئے۔ 1998۔ ستمبر۔ افغانستان کے علاقے مزار شریف میں آٹھ ایرانی سفارتکاروں اور ایک صحافی کے قتل کے بعد ایران نے ہزاروں فوجی افغان۔ایران سرحد پر تعینات کر دیے۔
1999۔ جولائی۔ جمہوریت کے حامی طلبہ نے تہران یونیورسٹی میں ایک اصلاح پسند اخبار ’سلام‘ کو بند کیے جانے کے خلاف مظاہرہ کیا۔ اس کے بعد چھ روز تک پولیس اور طلبہ میں تصادم ہوتا رہا جس میں ایک ہزار سے زائد طلبہ گرفتار ہوئے۔ 2000۔ اگست۔ سینیئر مذہبی رہنماؤں نے فتویٰ جاری کیا کہ عورتیں بھی عورتوں کو پڑھانے کے لیے نماز کی امامت کر سکتی ہیں۔ 2001۔ جون۔ صدر خاتمی دوسری مرتبہ صدر منتخب ہوئے۔
2002۔ جنوری۔ صدر بش نے ایران، عراق اور شمالی کوریا کو برائی کا محور قرار دیا۔ 2002 ستمبر۔ روسی ماہرین نے ایران کے پہلے جوہری پلانٹ کی تعمیر شروع کی۔ 2003۔ اکتوبر۔ شیرین عبادی نوبل انعام حاصل کرنے والی پہلی ایرانی بنیں۔ وکیل اور انسانی حقوق کی علمبردار شیرین عبادی 1975 میں ایران کی پہلی خاتون جج بنی تھیں۔ انہیں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ 2003۔ اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے آئی اے ای اے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران میں جوہری پروگرام کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔ 2003۔ دسمبر۔ ایران کے شہر بام میں شدید زلزلہ آیا جس میں چالیس ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ 2004۔ جنوری۔ ایران میں متنازعہ انتخابات کے بعد قدامت پسندوں نے پارلیمان میں اکثریت حاصل کر لی۔ 2004۔ جون۔ آئی اے ای اے نے ایران کی جوہری سرگرمیوں سے متعلق ایران کی طرف سے مناسب تعاون نہ کرنے کے الزام میں تہران کی مذمت کی۔ 2004۔ نومبر۔ ایران نے یورپی یونین کےے ساتھ ایک معاہدے کے بعد یورینیئم کی افزودگی کو معطل کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا۔ 2005۔ ایران نے یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد دوبارہ یورینیم کی افزودگی شروع کرنے کا اعلان کیا۔ لیکن اس بارے میں حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔ 2005۔ ایران کے جنوبی شہر کرمان میں زلزلہ آنے سے 400 کے قریب افراد ہلاک ہوئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||