جوہری پالیسی برقرار رکھیں گے: ترجمان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ نو منتخب صدر احمدی نژاد ملک کی نیوکلیئر پالیسی تبدیل نہیں کریں گے۔ ترجمان حامد رضا آصفی کے مطابق جوہری معاملات پر یورپ کے ساتھ مذاکرات جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ کو نومنتخب صدر کی طرف سے جوہری معاملات پر اپنے پروگرام کے اعلان تک صبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ محمود احمدی نژاد پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ جوہری معاملات پر ایرانی مذاکرات کاروں کو بات چیت کے دوران دھمکایا جاتا رہا ہے اور یہ رویہ تبدیل ہونا چاہیے۔ اسرائیل آخری ملک ہے جس نے محمود احمدی نژاد کے صدر منتخب ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی نائب وزیر اعظم شیمون پیریز نے ایرانی صدارتی انتخاب کو انتہا پسندوں کے درمیان مقابلہ قرار دیا تھا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ جوہری پروگرام ملک کی وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے اور یہ صدر کی تبدیلی سے متاثر نہیں ہوگا۔ مسٹر حامد رضا آصفی نے کہا کہ یورپی قیادت کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ محمود احمدی نژاد کے انتخاب نے ایران چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید استقامت بخشی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام بجلی پیدا کرنے کے لیے ہے اور مسٹر آصفی کے مطابق ایران اس حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ ’ہم مذاکرات کے ذریعے اچھے نتائج حاصل کریں گے۔‘ تہران میں بی بی سی کی نامہ نگار فرانسس ہیریسن کے مطابق ایران میں یہ ہر کوئی جانتا ہے کہ جوہری پالیسی کا فیصلہ ملک کے سب سے بڑی قائد آیت اللہ خامنئی کرتے ہیں اور اس بات کی توقع بہت کم ہے کہ احمدی نژاد ان سے اختلاف کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||