BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 26 June, 2005, 00:17 GMT 05:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کردار کشی کرنے کے الزامات
رفسنجانی
رفسنجانی نےکہا وہ اپنا معاملہ خدا پر چھوڑتے ہیں
ایران کے سابق صدر ہاشمی اکبر رفسنجانی نے صدارتی انتخابات میں ناکامی کے بعد انتخابی مہم کے دوران اپنے خلاف غیر قانونی ہتھکنڈے اور کردار کشی کی مہم چلائے جانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

انتخابات کے دوسرے مرحلے میں اپنی غیر متوقع ناکامی کے بعد انہوں نے ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ وہ ان انتخابات کے نتائج کے خلاف کوئی اپیل دائر نہیں کریں گے۔

تہران سے بی بی سی اردو سروس کی ماہ پارہ صفدر نے اطلاع دی ہے کہ توقع کی جارہی تھی کہ انتخابات کے بعد ہاشمی رفسنجانی کوئی پریس کانفرنس کریں گے لیکن پریس کانفرنس کے بجائے ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر ان کا ایک بیان نشر کیا گیا۔


انیس سو اناسی کے اسلامی انقلاب کے بعد سے اب تک ایران میں صدارت کے عہدے کے لیے نو مرتبہ انتخابات ہو چکے ہیں لیکن کسی بھی انتخاب میں بدعنوانیوں کے الزامات سامنے نہیں آئے۔

ایران میں صدارتی انتخابات کے بعد بدعنوانیوں کے الزامات کا عائد کیا جانا ایک غیر معمولی بات ہے۔

ہاشمی رفسنجانی نے اپنے بیان میں الزام لگایا کہ ان کے خلاف منظم طور پر ایک پراپگنڈہ مہم چلائی گئی جس میں ان کی کردار کشی کے اوپر لاکھوں ڈالر خرچ کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ان ججوں کے سامنے اپنا مقدمہ پیش نہیں کرنا چاہتے جو پہلے ہی یہ اشارے دے چکے ہیں کہ وہ اس سلسلے میں کچھ کرنا نہیں چاہتے یا کر نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنا معاملہ خدا پر چھوڑتے ہیں۔

ہاشمی رفسنجانی نے اب تک ان الزامات کو درست ثابت کرنے کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت مہیا نہیں کیا۔

ماہ پارہ کے مطابق وزارتِ کشور یعنی وزارتِ داخلہ کی طرف سے بھی ان الزامات کے حوالے سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔

انتخابات کے دوسرے مرحلے کی پولنگ میں ہاشمی رفسنجانی کے مقابلے میں سخت گیر رہنما محمود احمدی نژاد نےدگنے ووٹ حاصل کیے تھے۔

دریں اثناء سرکاری ذرائع ابلاغ سے محمود احمد نژاد کا بھی ایک طویل بیان نشر کیا گیا ہے جس میں انہوں نے ایران کو ایک جدید اسلامی اور ترقی یافتہ ملک بنانے کا عہد کیا ہے۔

انہوں نے تیل کے سودوں کو شفاف بنانے ان میں ایرانی کمپنیوں کو ترجیح دینے، دولت کی منصفانہ تقسیم کرنے اور معاشرے کے پسماندہ اور پسے ہوئے طبقوں کی ترقی کے لیے اقدامات کرنے کے وعدے کیے ہیں۔

ماہ پارہ کے مطابق احمدی نژاد کے ناقدین کا خیال ہے وہ (احمدی نژاد) ایک کٹر مذہبی انسان ہیں جو ایران کو جدید اسلامی مملکت بنانے کے بجائے طالبان کا افغانستان بنا دیں گے۔

احمدی نژاد سے پسے ہوئے اور پسماندہ طبقوں نے بہت زیادہ توقعات وابستہ کر لی ہیں جو ان کے لیے ایک چیلنج ثابت ہوسکتا ہے۔

ایران کے اعلی ترین مذہبی رہنما آیت اللہ علی خمنئی نے کہا کہ احمدی نژاد کی فتح امریکہ کے لیے ’تذلیل‘ کا باعث ہے۔

66ایران میں انتخابات
قدامت پسند وہ جو نہ مانے:علی احمد کا کالم
66محمود احمدی نژاد
’سخت گیر مگر دیانت دار اور انسان دوست‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد