BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 June, 2005, 13:50 GMT 18:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران میں ووٹروں کی بدلتی ترجیحات
ایران انتخابات
ان انتخابات میں اب مقابلہ رفسنجانی اور احمدی نژاد کے درمیان ہے۔
آج ایران میں صدارتی انتخابات کے دوسرے دور کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ اس دور میں مقابلہ تہران کے سخت گیر موقف رکھنے والے میئر محمود احمدی نژاد اور سابق صدر ہاشمی رفسنجانی کے درمیان ہے۔

بی بی سی کی نیوز آن لائن نے ایرانی دارالحکومت تہران میں کام کرنے والے ایک صحافی، آرمین سے آج وہاں کے ماحول کے بارے میں بات کی۔

’ووٹنگ صبح نو بجے شروع ہوئی۔ مجھے لگتا ہے کہ لوگ بہت بڑی تعداد میں ووٹ ڈالیں گے۔ میں نے ووٹروں سے بھری گاڑیوں کو پولنگ سٹیشنوں کی طرف جاتے دیکھا۔ جنوبی تہران کے مقابلتاً غریب علاقوں سے بھی پولنگ سٹیشنوں کے باہر لمبی قطاروں کی اطلاعات ہیں۔

میں نے صبح سویرے ہی اپنا ووٹ ڈال دیا تھا کیونکہ مجھے کام پر جانا تھا۔ میں نے رفسنجانی کو ووٹ دیا۔ جب میں نے ووٹ ڈالا اس وقت پولنگ سٹیشن پر زیادہ رش نہیں تھا۔ مگر شاید پچھلی بار کی طرح لوگ گرمی کی وجہ سے ووٹ ڈالنے کے لیے سورج ڈھلنے کا انتظار کریں گے۔ آج یہاں بہت گرمی ہے۔

میں نتیجے کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ اس کا دارومدار تہران اور ملک کے دوسرے حصوں کے مختلف علاقوں میں رہنے والے لوگوں پر ہے۔

اگر لوگ بہت بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے باہر آئے تو شاید رفسنجانی کو فائدہ ہو۔ اس سے پہلے اصلاح پسندوں نے رفسنجانی پر کافی تنقید کی تھی مگر اب وہ کہتے ہیں کہ رفسنجانی ہی ان کی آخری امید ہے۔

جہاں تک تہران کا سوال ہے تو شہر میں دونوں امیدواروں کے درمیان بہت سخت مقابلہ ہے۔ شہر کے مشرقی اور مغربی علاقوں میں زیادہ تر لوگ رفسنجانی کی حمایت کریں گے تاہم جنوبی علاقوں میں احمدی نژاد زیادہ مقبول ہیں۔

احمدی نژاد نے بدعنوانی کے خلاف مہم شروع کرنے کا وعدہ کیا ہے جس کی وجہ سے کئی لوگوں نے انہیں ووٹ دیا ہے۔

رفسنجانی اس سے پہلے، ایران عراق جنگ کے فوراً بعد، دو مرتبہ صدر رہ چکے ہیں۔ ان کے دور صدارت میں کچھ لوگوں نے جنگ کے بعد ہونے والے تعمیراتی کام سے فائدہ اٹھایا، مگر احمدی نژاد کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لوگوں کی زندگی بہتر نہیں ہوئی ہے۔

اس الیکشن میں معیشت ایک بہت بڑا کردار ادا کر رہی ہے۔ احمدی نژاد نے لوگوں کی زندگی بہتر بنانے کا وعدہ کیا ہے۔ اب بھی تہران اور ملک کے دیگر حصوں میں کئی لوگ غربت کی لکیر کے نیچے رہ رہے ہیں۔

تاہم عام لوگ بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ نہیں جانتے احمدی نژاد کی فتح کی صورت میں کیا ہوگا۔ انہیں بس امید ہے کہ ان کی زندگی کسی حد تک بہتر ہو جائے گی۔

مجھے نہیں لگتا کہ ان انتخابات سے کوئی خاص تبدیلی آئے گی۔ ہر بات کے لیے رہبر اعلی کی رضامندی ضروری ہے اور کوئی صدر پالیسیوں کو نہیں بدل سکتا۔‘

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66ویب نویشت
ایرانی بلاگر کیا کررہے ہیں؟
66صدارتی انتخابات
ایرانی انتخابات میں حزب اختلاف کا کردار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد