ایران نے نئی ڈیڈ لائن دے دی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے سلسلے میں مغربی ممالک کی طرف سے تجاویز دینے کی تاریخ میں توسیع کر دی ہے۔ ایک ایرانی سرکاری عہدیدار کے مطابق اگر اتوار دن بارہ بجکر تیس منٹ (گرینچ ٹائم) کی ڈیڈ لائن پر عمل نہ کیا گیا تو ایران یورینیم کی محدود افزودگی کا پروگرام دوبارہ شروع کر دے گا۔ دوسری جانب فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے کہا ہے کہ ایران کی طرف سے جوھری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی کوئی بھی کارروائی جاری مذاکرات کو غیر موثر کر دے گی۔ امریکہ کا خیال ہے کہ ایران جوھری بم بنا رہا ہے جبکہ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوھری پروگرام صرف توانائی کے حصول کے لیے ہے۔ واضح رہے کہ بین الا قوامی دباؤ کے تحت ایران نے گزشتہ سال نومبر میں یورینیم کو تبدیل کرنے اور اس کی افزودگی کے تمام پروگرام روک دیے تھے۔ تاہم ایران نے ہمیشہ اس بات پر بھی اصرار کیا ہے کہ وہ یورپی یونین کی تجاویز سے قطع نظر یورنیم افزودہ کرنے سے متعلق کچھ کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین نے، جس کی نمائندگی فرانس، جرمنی اور برطانیہ کر رہے ہیں، دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر ایران ایسی کارروائیاں شروع کرتا ہے تو یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کو بھجوا دیا جائےگا۔ تاہم ابھی تک ان ممالک نےایران کے تجاویز کے مطالبے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ ایران کا کہنا ہے کہ یورپی یونین نے اتفاق کیا تھا کہ وہ ایران کو اپنے جوھری پروگرام میں کمی کرنے کے لیے اقتصادی مراعات کا ایک پیکج یکم اگست تک پیش کریں گے۔لیکن برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے کبھی ایسی کسی ڈیڈ لائن پر اتفاق نہیں کہا بلکہ انہوں نے صرف یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ جولائی کے آخر یا اگست کے شروع تک کچھ تجاویز پیش کریں گے۔ اب ایران نے اپنی اس ڈیڈ لائن میں توسیع کرتے ہوئے ان ممالک کو اتوار ساڑھے بارہ بجے (گرینچ ٹائم) تک کا وقت دیا ہے۔ ایران کی قومی سلامتی کی سپریم کونسل کے ترجمان علی آغا محمدی کے مطابق ان کا ملک یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات جاری رکھےگا اور یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع نہیں کرے گا لیکن اگر ڈیڈ لائن پر عمل نہیں کیا جاتا یا یورپی یونین کی تجاویز ایران کو پسند نہیں آتیں تو ان کا ملک یورینیم کی افزودگی شروع کر دے گا۔ علی آغا محمدی نے کہا کہ وہ اصفہان کے پلانٹ کو بحال کر کے خام یورینیم سےگیس بنانا شروع کر دے گا کیونکہ تیکنیکی طور پر یہ پروگرام افزودگی میں شمار نہیں ہوتا۔ تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار فرانسس ہیریسن کا کہنا ہے کہ ایران ایسی ڈیڈ لائن، کہ جس کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ اس پر یورپ عمل نہیں کر سکتا، دے کر اپنے موقف میں مزید سختی پیدا کر رہا ہے۔ تاہم ہمارے نگار کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ ایران ایسا مذاکرات سے پہلےمحض دباؤ بڑھانے کے لیے کر رہا ہے یا یہ ایک سنجیدہ دھمکی ہے۔ واضح رہے کہ اپنے انتخاب کے بعد ایران کے نو منتخب صدر محمود احمدی نژاد نے کہا تھا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو جاری رکھنے کے حامی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||