بُش کا ایران اور شام پر الزام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جارج بُش نے امریکی ایوان نمائندگان سے اپنے پالیسی ساز خطاب میں ایران اور شام پر دہشت گردی کے فروغ اور حمایت کا الزام لگایا ہے۔ صدر بش نے اپنے خطاب میں جہاں بہت وقت داخلی امور کو دیا وہیں انہوں نے مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام اور ’عالمی دہشت گردی‘ کے خاتمے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی ریاستوں کا سامنا کرنا ضروری ہے جو دہشت گردوں کو پناہ دیتی ہیں اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار بنانا چاہتی ہیں۔ اس سلسلے میں صدر بُش نے ایران اور شام کا نام لیا۔ انہوں نے کہا کہ شام اپنے اور لبنان کے کچھ علاقوں سے ان ’دہشت گردوں کو کارروائی کا موقعہ دیتا ہے جو علاقے میں امن قائم نہیں ہونے دینا چاہتے‘۔ انہوں نے ایران کو دنیا میں ’ریاستی دہشت گردی کو فروغ دینے والا صف اوّل کا ملک قرار دیا‘۔ انہوں نے کہا کہ ایران وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیار بنا رہا ہے اور اس نے اپنے شہریوں کو بنیادی آزادیوں سے محروم رکھا ہوا ہے۔ صدر بُش نے کہا کہ عراقی سیکیورٹی حکام کو تربیت دینا ضروری ہے تاکہ وہ مکمل طور پر عراق میں امن و امان کی ذمہ داری سنبھال سکیں۔ انہوں نے کہ وہ امریکہ کی عراق سے واپسی کے وقت کے بارے میں کچھ نہیں کہیں گے کیونکہ اس سے ’دہشت گردوں‘ کو شہہ ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہر نسل کا کوئی نہ کوئی خواب ہوتا ہے اور ان کی نسل کا خواب آزادی اور جمہوریت کا فروغ ہے۔ صدر بُش نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں دو ریاستوں اسرائیل اور فلسطین کا اچھے ہمسایوں کی طرح رہنے کا خواب حقیقت بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ فلسطینی علاقوں میں اصلاحات کے لیے امریکی کانگریس سے تین سو پچاس ملین ڈالر کی منظوری کی درخواست کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||