’امریکی آزادی، خون و تیل کی بو‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشنکا نے کہا ہے کہ امریکہ جس آزادی کی بات کرتا ہے اس سے خون اور تیل کی بدبو آتی ہے۔ وہ امریکی صدر بش کی جانب سے اپنے ملک پر کی گئی تنقید پر رد عمل ظاہر کر رہے تھے۔ لوکاشنکا نے کہا کہ کچھ قوموں کو اس آزادی کی ضرورت نہیں ہے جس کی پیشکش واشنگٹن نے کی ہے۔ ان کا کہنا ہے امریکہ کے لیے لفظ آزادی کا جو مطلب ہے اس سے تیل کی بدبو آتی ہے اور اس پر خون کے چھینٹے ہیں۔ جمعرات کو اپنے خطاب میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ امریکی خارجہ پالیسی میں تمام دنیا سے مظالم کے خاتمے کو ترجیح دینی چاہیے۔ صدر بش کا یہ بیان نئی امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے جنہوں نے سابق سوویت یونین کی چھ ریاستوں کے بارے میں کہا تھا کہ یہ ’مظالم کا گڑھ‘ ہیں۔ ان چھ ممالک میں بیلاروس کا نام بھی لیا گیا تھا۔ نامہ نگاروں کے مطابق بیلاروس یورپ کی وہ واحد ریاست ہے جو اقتصادی اور سیاسی طور پر مغربی دنیا سے کٹا ہوا ہے۔ امریکی صدر نے جمعرات کو کیپٹل ہل واشنگٹن میں باضابطہ طور پر بحیثیت امریکی صدر حلف اٹھایا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||