ایران: دوسرے دور کی تیاریاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران میں صدارتی انتخابات کے دوسرے دور کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں اور اس بار میدان میں صرف دو امیدوار ہیں۔ ایران کے سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی اور تہران کے میئر محمود احمد نژار کے درمیان اگلے جمعہ کو مقابلہ ہوگا۔ پہلے مرحلے میں سات امیدواروں میں سے کوئی بھی پچاس فیصد ووٹ حاصل نہیں کر سکا اور گزشتہ چھبیس سال میں پہلی بار صدر کا انتخاب دوسرے دور کے بعد ہوگا۔ ہاشمی رفسنجانی کے بارے میں تو لوگوں کا خیال تھا کہ وہ زیادہ ووٹ حاصل کریں گے لیکن میئر احمد نژار کے بارے میں کسی نے نہیں سوچا تھا کہ وہ دوسرے نمبر پر آ جائیں گے۔ رفسنجانی کو اکیس فیصد ووٹ ملے اور نژار کو انیس اعشاریہ پانچ فیصد۔ نژار کی کامیابی اتنی حیران کن تھی کہ ان کے اپنے حامی بھی اس کے لیے تیار نہیں تھے اور جب انہیں صحافیوں سے خطاب کرنا پڑا تو اس کے لیے جگہ بھی نہیں بنائی گئی تھی۔ نژار نے جلدی میں بنے ہوئے ایک سٹیج سے انتخابی نتائج پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں لوگوں کا امیدوار ہوں‘۔ نژار کی کامیابی غالباً تہران کے نواح میں رہنے والے غرباء کی حمایت سے ممکن ہوئی ہے جو مذہب سے لگاؤ رکھتے ہیں۔ نژار کو قدامت پسند امیدوار کہا جا رہا ہے۔ تیسرے نمبر پر آنے والے امیدوار مجلس کے سابق سپیکر مہدی کروبی نے دھاندلی کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ انتخابی عمل میں مداخلت کی گئی ہے اور اس میں پیسہ استعمال ہوا ہے۔ ایران کی وزارت داخلہ کے مطابق باسٹھ فیصد ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ امید کی جا رہی کہ دوسرے دور میں اس سے بھی زیادہ لوگ ووٹ ڈالیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||