ایران نے ڈیڈ لائن دے دی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے تین مغربی ملکوں سے جو اس کے جوہری پروگرام کے سلسلے میں مذاکرات کررہے ہیں کہا ہے کہ وہ پیر تک اپنی تجاویر پیش کر دیں۔ ایرانی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ مغربی ملکوں نےتجاویز پیش کرنے کی پیر تک کی مہلت میں توسیع کرنےکی درخواست کی تھی جسے مسترد کر دیا گیا ہے۔ لیکن ایران سے اس کے جوہری پروگرام کے بارے میں مذاکرات کرنے والے ان تین ممالک، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے کہا ہےکہ انہوں نے ان تجاویز کے پیر تک تیار کرنے کا کوئی وعدہ نہیں کیا تھا۔ یہ تینوں یورپی ممالک ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کے پروگرام کو ترک کرنے کے لیے آمادہ کرنے کے لیے کچھ مراعات کی پیش کش کرنے والے ہیں۔ ایران متعدد مرتبہ اس بات کا اعادہ کرچکا ہے کہ وہ مراعات سے قطع نظر یورنیم افزودہ کرنے سے متعلق کچھ کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تہران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام غیر دفاعی مقاصد کے لیے ہے۔ افزودہ یورینیم جوہری توانائی پیدا کرنے کے علاوہ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے ترجمان نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ مغربی ممالک نے اس مہلت میں سات اگست تک توسیع کرنے کی درخواست کی تھی۔ ایران نے گزشتہ سال نومبر میں یورینیم افزودہ کرنے کی کارروائیاں معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اس نے ہمیشہ اس بات پر اصرار کیا ہے کہ یہ پروگرام عارضی طور پر معطل کیا گیا ہے۔ یورپی ممالک یہ بات واضح طور پر کہا چکے ہیں کہ اگر ایران نے یورینیم افزودگی کا پروگرام دوبارہ شروع کیا تو پھر وہ مذاکرات کا سلسلہ بند کر دیں گے۔ ایران کے نو منتخب صدر محمود احمد نژاد نے کہا تھا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو جاری رکھنے کے حامی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||