BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 31 July, 2005, 13:18 GMT 18:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوہری منصوبہ: ایران کو تنبیہ
ایران
ایران کے نو منتخب صدر نے جوہری پروگرام جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا
برطانیہ نے ایران کی طرف سے جوھری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی کو’غیر ضروری اور نقصان دہ‘ قرار دیا ہے۔

برطانیہ کے دفتر خارجہ نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے یکطرفہ اقدامات نہ کرے جن سے یورپی یونین کے تین ممالک کے ساتھ جاری اُس کے مذاکرات پر برا اثر پڑے۔

ایک اطلاع کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ انہیں ساڑھے بارہ بجے کی ڈیڈ لائن کا کوئی علم نہیں ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان حامد رضا آصفی کے مطابق ڈیڈ لائن کے حوالے سے آنے والی اطلاعات غلط ہیں اور یہ کہ یورپی ممالک کو اپنی تجاویز جولائی کے آخر( یعنی اتوار رات بارہ بجے) تک دینا ہیں۔

برطانیہ کی طرف سے مذکورہ بیان ایران کے ایک اعلٰی افسر سے منصوب اس بیان کے بعد آیا ہے کہ اگرمذکورہ تین ممالک اتوار دوپہر ساڑھے بارہ بجے (گرینچ ٹائم) تک اپنی تجاویز پیش نہیں کرتے توایران یورینیم کی محدود افزودگی کا پروگرام دوبارہ شروع کر دے گا۔

برطانیہ نے، جو کہ اس وقت یورپی یونین کا صدر بھی ہے، کہا ہے کہ یورپی یونین اپنی تجاویز ایک ہفتے تک دےگا۔

دفترخارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ایک ہفتے میں تجاویز پیش کرنے کی بات تین یورپی ممالک (فرانس، جرمنی اور برطانیہ) اور ایران کے درمیان اس سال مئی میں جینیوا میں طے پانے والے معاہدے کے مطابق ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار جون لین کا کہنا ہے کہ ایران اور یورپی ممالک کے درمیان ڈیڈ لائن پر اختلاف خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔

اس سے قبل اتوار کی صبح خبر آئی تھی کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے سلسلے میں مغربی ممالک کی طرف سے تجاویز دینے کی تاریخ میں توسیع کر دی ہے۔

امریکہ کا خیال ہے کہ ایران جوہری بم بنا رہا ہے جبکہ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف توانائی کے حصول کے لیے ہے۔

واضح رہے کہ بین الا قوامی دباؤ کے تحت ایران نے گزشتہ سال نومبر میں یورینیم کو تبدیل کرنے اور اس کی افزودگی کے تمام پروگرام روک دیے تھے۔ تاہم ایران نے ہمیشہ اس بات پر بھی اصرار کیا ہے کہ وہ یورپی یونین کی تجاویز سے قطع نظر یورنیم افزودہ کرنے سے متعلق کچھ کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

دوسری جانب یورپی یونین نے، جس کی نمائندگی فرانس، جرمنی اور برطانیہ کر رہے ہیں، دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر ایران ایسی کارروائیاں شروع کرتا ہے تو یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کو بھجوا دیا جائےگا۔

ایران کا کہنا ہے کہ یورپی یونین نے اتفاق کیا تھا کہ وہ ایران کو اپنے جوہری پروگرام میں کمی کرنے کے لیے اقتصادی مراعات کا ایک پیکج یکم اگست تک پیش کریں گے۔لیکن برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے کبھی ایسی کسی ڈیڈ لائن پر اتفاق نہیں کہا بلکہ انہوں نے صرف یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ جولائی کے آخر یا اگست کے شروع تک کچھ تجاویز پیش کریں گے۔

تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار فرانسس ہیریسن کا کہنا ہے کہ ایران ایسی ڈیڈ لائن جس کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ اس پر یورپ عمل نہیں کر سکتا، دے کر اپنے موقف میں مزید سختی پیدا کر رہا ہے۔ تاہم ہمارے نگار کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ ایران ایسا مذاکرات سے پہلےمحض دباؤ بڑھانے کے لیے کر رہا ہے یا یہ ایک سنجیدہ دھمکی ہے۔

واضح رہے کہ اپنے انتخاب کے بعد ایران کے نو منتخب صدر محمود احمدی نژاد نے کہا تھا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو جاری رکھنے کے حامی ہیں۔

ایران کو دھمکی
کیا ایران امریکہ کا اگلا نشانہ بنےگا؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد