اقوام متحدہ کے معائنہ کار ایران میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک اعلیٰ ایرانی اہلکار کے مطابق اقوام متحدہ کے جوہری ادارے کے معائنہ کار یورینیئم کی افزودگی کا جائزہ لینے کے لیے ایران پہنچ گئے ہیں۔ اہلکار کا کہنا ہے کہ معائنہ کار اصفہان کے جوہری پلانٹ پر نگرانی کے آلات نصب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ معائنہ کار ایران کی جانب سے اصفہان پلانٹ کو دوبارہ کھولے جانے کا بھی جائزہ لیں گے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے یورینیم کا افزودگی دوبارہ شروع کرنے سے ملک کی امریکی اور یورپی یونین سے سفارتی کشیدگی مزید بڑھ جانے کا خدشہ ہے۔ ادھر ایران نے اپنے مرکزی مذاکرات کار حسین روحانیان کو تبدیل کر دیا ہے اور ان کا عہدہ علی لاریجانی نے سنبھال لیا ہے۔ لاریجانی ایک قدامت پسند ہیں اور سرکاری براڈ کاسٹنگ کمپنی کےسربراہ رہ چکے ہیں۔ فریقین کے مابین اس معاملے میں ہونے والی بات چیت تعطل کا شکار ہو گئی تھی۔ ایران کا کہنا ہے کہ اسے پرامن مقاصد کے لیے اپنا جوہری پروگرام جاری رکھنے کا پورا حق حاصل ہے۔ یورپی یونین نے ایران کو اصفہان کے جوہری پلانٹ کو کھولنے سے باز رکھنے کے لیے جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے کا اجلاس منگل کو طلب کیا ہے۔ ایک ایرانی مذاکرات کار نے گزشہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کرنے کی طرف پہلا قدم اٹھا لیا ہے۔ ایران کے گزشتہ ہفتے یورپی یونین کی طرف سے دی جانے والی تجاویز کو رد کر دیا تھا۔ ایران نے بین الاقوامی دباؤ کے پیش نظر گزشتہ سال نومبر میں یورینیم کو تبدیل کرنے اور اس کی افزودگی کے تمام پروگرام روک دیے تھے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اس بات پر اصرار کرتا رہا ہے کہ جوہری ٹیکنالوجی حاصل کرنا اس کا حق ہے۔ ایران نے ہمیشہ اس بات پر بھی اصرار کیا ہے کہ وہ یورپی یونین کی تجاویز سے قطع نظر یورنیم افزودہ کرنے سے متعلق کچھ کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ برطانیہ نے ایران کی طرف سے پروگرام دوبارہ شروع کرنے کو دھمکی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دھمکی ’غیر ضروری اور نقصان دہ‘ ہے۔ ایران نے برطانوی انتباہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پیر سے جوہری پروگرام پر کام دوبارہ شروع کرے گا۔ برطانوی دفتر خارجہ نے ایران پر زور دیا تھا کہ وہ ایسے یک طرفہ اقدامات نہ کرے جن سے یورپی یونین کے ممالک سے جاری اُس کے مذاکرات پر برا اثر پڑے۔ بی بی سی کے نامہ نگار جون لین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ سلامتی کونسل بھیجا جا سکتا ہے اور ایران پر پابندیاں بھی نافذ ہو سکتی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||