BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 10 August, 2005, 06:49 GMT 11:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات
اصفہان
ایران نے یورینیم کی افزودگی شروع کرنے کی طرف پہلا قدم اٹھا لیا ہے
اقوامِ متحدہ کے جوہری پروگرام کا نگران ادارہ دوسرے دن بھی ایران کے جوہری پروگرام پر ہنگامی مذاکرات کر رہا ہے۔

آئی اے ای اے چاہتا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی کو رضاکارانہ طور پر بند کر دے۔

ایران نے کہا ہے کہ آج یعنی بدھ کے روز وہ اپنے جوہری پلانٹ کے دوسرے حصوں پر سے ’سِیل‘ کھول دے گا جس کے بعد پلانٹ پوری طرح کام کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

ایران کے صدر نے کہا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر مزید بات چیت کے لیے تیار ہے اور وہ نئی تجاویز بھی پیش کرے گا۔

امریکہ اور یورپی اتحاد نے تہران سے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کی کی میز پر واپس آئے۔

دوسری طرف جوہری پروگرام میں ایران کے سب سے بڑے معاون روس نے ایران سے کہا ہے وہ یورینیم کی افزودگی فوری طور پر بند کرے۔

روس نے ایران سے کہا ہے کہ وہ جوہری توانائی سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے آئی اے ای اے سے تعاون کرے۔

یورپی یونین جس نے اصفہان کے جوہری پلانٹ کو دوبارہ کھولے جانے سے متعلق ایرانی اعلان کی مذمت کی تھی اب اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے کے ساتھ ایک بار پھر ایران سے پروگرام بند کرنے اور بات چیت کی طرف واپس آنے کے لیے کہا ہے۔

ایران کے صدر محمد احمد نژاد نے کہا ہے کہ اگر نئی اور غیر مشروط تجاویز پیش کی جاتی ہیں تو ایران بات چیت کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ کابینہ مکمل کرنے کے بعد اس سلسلے میں نئی کوششیں شروع کریں گے۔

امریکی صدر جارج بش نے ایرانی صدر کے اس بیان کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں ابھی تک اس بات کا شک ہے کہ ایران جوہری اسلحہ بنانا چاہتا ہے۔

یورپی یونین کی طرف سے بیان دیتے ہوئے فرانس نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملے کا حل ڈھونڈا جا سکتا ہے۔

جوہری سرگرمیوں پر کنٹرول کے لیے اقوام متحدہ کے ادارہ آئی اے ای اے میں اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ ایران کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجا جانا چاہیے یا نہیں۔

اس معاملے پر منگل سے شروع ہونے والی بات چیت کو مکمل ہونے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔

آئی اے ای اے کے ارکان نے ویانا میں ہونے والے اجلاس میں ایران کی جانب سے جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کے فیصلہ کی تنقید کی ہے۔

آئی اے ای اے میں برطانوی نمائندے پیٹر جینکنز نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اب ایسا دکھائی دینے لگا ہے کہ ایران کو جوہری پروگرام ترک کرنے پر راضی نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجنے سمیت دیگر راستوں پر بھی غور کیا جائے۔

برطانیہ، جس کے پاس یورپی یونین کی صدارت ہے، پہلے ہی ایرانی اعلان پر تشویش کا اظہار کر چکا اور اس کا کہنا ہے کہ ایرانی اقدام نقصان دہ ہے۔

ایران نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ اصفہان کے نزدیک واقع جوہری پلانٹ نے دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔ تاہم یہ کام صرف ان حصوں میں شروع ہوا ہے جہاں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نگرانی نہیں کر رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد