جوہری پروگرام: ایران پر دباؤ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران میں یورینیم کی افزودگی دوسرے دن کئی ممالک نے ایران سے پروگرام بند کرنے کے لیے کہا ہے۔ یورپی یونین جس نے اصفہان جوہری پلانٹ کو دوبارہ کھولے جانے سے متعلق ایرانی اعلان کی مذمت کی تھی اب اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے کے ساتھ ایک بار پھر ایران سے پروگرام بند کرنے اور بات چیت کی طرف واپس آنے کے لیے کہا ہے۔ ایران کے صدر محمد احمد نژاد نے کہا کہ اگر نئی تجاویز پیش کی جاتی ہیں تو ایران بات چیرت کے لیے تیار ہے۔ جوہری سرگرمیوں پر کنٹرول کے لیے اقوام متحدہ کے ادارہ آئی اے ای اے میں اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ ایران کا معاملہ اقوام متحدہ کی لسامتی کونسل کو بھیجا جانا چاہیے یا نہیں۔ اس معاملے پر بدھ سے شروع ہثنے والی بات چیت کو مکمل ہونے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ برطانیہ، جس کے پاس یورپی یونین کی صدارت ہے، پہلے ہی ایرانی اعلان پر تشویش کا اظہار کر چکا اور اس کا کہنا ہے کہ ایرانی اقدام نقصان دہ ہے۔ ایران نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ اصفہان کے نزدیک واقع جوہری پلانٹ نے دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔ تاہم یہ کام صرف ان حصوں میں شروع ہوا ہے جہاں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نگرانی نہیں کر رہی ہے۔ واشنگٹن میں سٹیٹ ڈیپارٹمینٹ کے حکام نے کہا ہے کہ امریکہ یورپی یونین اور ایران کے مابین جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کوشش کرے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||