کابینہ: قدامت پرستوں کا زور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے کابینہ کے وزیروں کی ایک فہرست پارلیمنٹ کے سامنے پیش کی ہے جس میں کئی قدامت پرست سیاسی رہنماؤں کے نام شامل ہیں۔ صدر محمود احمدی نژاد نے وزیر خارجہ کے طور پر مانوچر موتاکی کا نام دیا ہے جو ان کے نظریات کے حامی بھی رہے ہیں۔ انہوں نے داخلی اور خفیہ اداروں کی وزارتوں کے لیے بھی جن سیاست دانوں کے نام دیے ہیں وہ افراد سخت گیر رہنماؤں کی حیثیت جانے جاتے ہیں۔ تیل کی اہم وزارت علی سعید لو کے حوالے کی گئی ہے جو احمدی نژاد کے بعد ان کے جانشین کی حیثیت سے تہران کے مئیر بھی رہ چکے ہیں لیکن تیل کی صنعت میں وہ معروف نہیں ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ان میں بہت سے نئے وزیر وہ بھی ہیں جنہیں ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنائی کے نزدیک تصور کیاجاتا ہے۔ ان قدامت پرست وزیروں کے نامزدگی احمدی کی سابق صدر محمود خاتمی کی اصلاحاتی پالیسیوں میں تبدیلی کا واضح اشارہ کرتی دیکھائی دیتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||