ایران: نئے صدر نے عہدہ سنبھال لیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جولائی میں ایران کے صدارتی انتخابات میں جیتنے والے امیدوار محمود احمدی نژاد نے آج حلف اٹھا لیا ہے۔ انچاس سالہ احمدی نژاد کے عہدے کی توثیق ایران کے رہبر اعلٰی آیت اللہ علی خامنئی نے کی۔ مسٹر احمدی نژاد تہران کے سابق مئیر ہیں اور وہ اصلاح پسند سیاست دان محمد خاتمی کی جگہ صدر بنیں ہیں جو اس عہدے پر آٹھ سال رہے ہیں۔ انتہائی قدامت پسند رہنما کی شہرت رکھنے والے احمدی نژاد کو حلف اٹھانے کے بعد جس سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے وہ تو تین یورپی ممالک برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ جوہری معاملات پر پیدا ہونے والا تنازعہ ہے۔ ایران نے اسی ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی جوہری کارروائیاں بحال کر رہا ہے جس پر یورپی ممالک نے انتہائی نا خوشی کا اظہار کیا۔ گزشتہ برس ایران نے ان تین یورپی ممالک سے ایک معاہدہ کیا تھا جس میں اس نے یورینیم کی افزودگی معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کو ایک پُر امن جوہری پروگرام جاری رکھنے کا پورا حق ہے۔ ایران نے اپنے مؤقف پر اصرار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اصفہان کے جوہری پلانٹ پر یورینیم کو گیس میں تبدیل کرنے کے منصوبے کو بحال کرنے کا فیصلہ اٹل ہے۔ امریکہ کو خدشہ رہا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے حالانکہ اران نے اس کی کئی مرتبہ تردید کی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||