شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے: فرانس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس نے ایران کو جوہری کاروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے فیصلے پر خبردار کیا ہے۔ وزیرِاعظم ڈومینیک ڈی ولیپن نے کہا کہ اگر ایران جوہری کارروائیاں بحال کرتا ہے تو یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کو بھجوا دینا چاہیے جبکہ فرانسیسی وزیرخارجہ نے کہا کہ ایران کی طرف سے اس قسم کا کا اقدام شدید بین الاقوامی بحران پیدا کر سکتا ہے۔ ایران نے اپنے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اصفہان کے جوہری پلانٹ پر یورینیم کو گیس میں تبدیل کرنے کے منصوبے کو بحال کرنے کا فیصلہ اٹل ہے۔ اب تک فرانس، جرمنی اور برطانیہ ایران کا معاملہ اقوام متحدہ میں لے جانے کے لیے امریکی دباؤ کا دفاع کرتے رہے ہیں کیونکہ انہیں امید رہی ہے کہ یہ مسئلہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے ذریعے حل ہو جائے گا۔ گزشتہ برس ایران نے تین یورپی ممالک سے ایک معاہدہ کیا تھا جس میں اس نے یورینیم کی افزودگی روکنے کا اعلان کیا تھا۔ بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے افزودگی دوبارہ شروع کرنے کا اعلان اس بات کا مظہر ہے کہ یورپی ممالک کی ایران کو مذاکرات پر راضی کرنے کی دو برس سے جاری کوششیں ناکام ہوگئی ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس معاملے کے اقوامِ متحدہ میں جانےسے فکر مند نہیں ہے کیونکہ بین الاقوامی اٹامک ایجنسی کے انسپکٹروں کو ایران سے کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا تھا کہ وہ ہتھیار تیار کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کو سلامتی کونسل میں روس اور چین کی جانب سے حمایت کی بھی امید ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||